سہولت کار
ریاست کی پہچان اس کی رٹ سے ہوتی ہے، اور اگر رٹ کا تصور مصلحت، سیاسی منافقت، یا بزدلی سے بدل دیا جائے، تو وہ ریاست نہیں رہتی، سرکس بن جاتی ہے،جہاں تماشائی ہر روز خون کا تماشا دیکھتے ہیں۔
ریاست کی پہچان اس کی رٹ سے ہوتی ہے، اور اگر رٹ کا تصور مصلحت، سیاسی منافقت، یا بزدلی سے بدل دیا جائے، تو وہ ریاست نہیں رہتی، سرکس بن جاتی ہے،جہاں تماشائی ہر روز خون کا تماشا دیکھتے ہیں۔
پاکستان دشمنی کے کئی چہرے ہیں، مگر ان کا ایجنڈا ایک ہے: انتشار، بدامنی، اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنا۔ بی ایل اے ایک مسلح دہشت گرد گروہ ہے، ماہ رنگ اس کا سہولت کار چہرہ ہے، اور پی ٹی
اقبال ؒ نے کہا تھا’’ جدا ہودیں سیاست سے رہ جاتی ہے چنگیزی‘‘ ہم نے دیکھ رہے ہیں، بھگت رہے ہیں ، آج سے نہیں پون صدی سے ۔ ابوالکلام نے تو کسی اور تناظر میں کہا تھا کہ’’ سیاست
قائد انتشار کی اصلیت اور حقیقت پر ہمیں تو کبھی کوئی شبہ نہیں رہا، روز اول سے یقین واثق ہے کہ یہ شخص پاکستان کادوست نہیں ، یہ کوئی جذباتی یا سیاسی موقف نہیں،معلومات ، شواہد اور موصوف کے اقدامات کی روشنی میں ایک
میرے دیس پر حملہ ہوا ہے ، میرے وطن کی سالمیت کو چیلنج کیا گیا ہے ، میری سرزمین پر میرے اپنوں کا خون بہایا جا رہا ہے اور میں بے بس ہوں ، بے اختیار ، میری واحد شناخت
بغل میں چھری منہ میں رام رام ، صرف ایک محاورہ نہیں بلکہ’’ ہندوتوا‘‘کی ذہنیت اور پالیسی ہے۔ یقین نہ آئے تو ہندوتوا کے سٹریٹجک گرو یا فلسفی اچاریہ چانکیہ کی کتاب ارتھ شاستر کا مطالعہ کرلیں ، اس کا تمام
اسلام آباد کی بارش اپنے اندر ایک رومانوی پہلو رکھتی ہے ،زاہد خشک بھی اس موسم میں سڑکیں ناپنے نکلنے کی ضد کرتے ہیں ، صاف نکھراموسم ، کھل کھلاتے پودے ، مٹی کی سوندھی خوشبو ، اجلا آسمان اور
سب اچھاکی منزل ابھی نہیں آئی، لیکن صد شکر کہ نحوست چھٹ رہی ہے، امن اور استحکام کی باد بہاری ترقی وخوشحالی کی فصل گل کی نوید بن کر ارض پاک پر اتر رہی ہے ۔ ایک طرف کھیلوں کے
بلی تھیلے سے باہر آچکی ،راز فاش ہو چکا، پاکستان کے خلاف جو جنگ سات پردوں کے پیچھے ، خفیہ چالوں اور ایجنٹوں کے ذریعہ سے لڑی جاری تھی، وہ کھل کر سامنے آگئی ہے ۔ یہ دشمن کی ناکامی اور
حالات کٹھن ہوجائیں ، مصائب بڑھ جائیں ، برداشت ختم ہونے لگے ، ہمت جواب دینے لگے، دل زخموں سے چور اور امید دم توڑنے لگے تو اہل ایمان اپنے رب کو پکارتے ہیں ، جو دلوں کے بھید جانتا ہے