Search
Close this search box.
جمعه ,03 جولائی ,2026ء

فیلڈ مارشل کا خواب اور نئی چینی ایجاد

کبھی کبھی تاریخ میں ایسے لمحے آتے ہیں جب یوں محسوس ہوتا ہے کہ قدرت نے کسی قوم کے لیے ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔ جب ایک طرف قوم ایک بڑے خواب کی تعبیر تلاش کر رہی ہو اور دوسری طرف دنیا کے کسی گوشے میں ایسی سائنسی پیش رفت سامنے آ جائے جو اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہو، تو اسے محض اتفاق کہنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔پاکستان میں گرین پاکستان انیشی ایٹو بھی ایک ایسا ہی خواب ہے جو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دیکھا۔ ایک ایسا منصوبہ جس کا مقصد لاکھوں ایکڑ بنجر زمین کو دوبارہ زندہ کرنا، جدید زراعت کو فروغ دینا، غذائی تحفظ حاصل کرنا اور پاکستان کو زرعی طاقت میں تبدیل کرنا ہے۔ اور اب عین اسی وقت چین سے ایسی ٹیکنالوجی سامنے آئی ہے جو شاید اس خواب کی تکمیل میں سب سے بڑی رکاوٹ، یعنی میٹھے پانی کی کمی، کو دور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔حدیث مبارکہ ہے کہ “علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے۔” اگرچہ بعض محدثین کے نزدیک اس روایت کی سند پر تحفظات ہیں، لیکن دوسرے محدثین اس کی اسناد کے حوالے سے مطمئن ہیں، اس فرمان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام ہمیشہ کیلئے یہی رہا کہ جہاں بھی علم اور نئی ٹیکنالوجی ہو، وہاں سے سیکھنے میں ہچکچاہٹ اور تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک بار پھر پاکستان کے لیے نگاہیں چین کی طرف اٹھ گئی ہیں۔چین کی چائنیز اکیڈمی آف سائنسز اور شینزن یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے ایک ایسی فوٹو تھرمل ٹیکنالوجی تیار کی ہے جو صرف سورج کی روشنی کی مدد سے سمندر کے کھارے پانی کو پینے کے قابل بنا سکتی ہے۔ اس عمل میں بجلی درکار نہیں، توانائی کا خرچ نہ ہونے کے برابر ہے، اور ابتدائی تجربات کے مطابق حاصل ہونے والے پانی کی لاگت بوتل بند پانی سے بھی کم ہو سکتی ہے۔ اگر یہ ٹیکنالوجی صنعتی پیمانے پر کامیاب ثابت ہوتی ہے تو یہ دنیا کے پانی کے بحران میں ایک انقلابی موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔پاکستان کے لیے اس خبر کی اہمیت کئی گنا زیادہ ہے، کیونکہ ہمارے پاس زمین کی کمی نہیں، محنت کش افرادی قوت کی کمی نہیں، سورج کی روشنی کی کمی نہیں، بلکہ سب سے بڑی رکاوٹ میٹھے پانی کی کمی ہے۔یہی وہ رکاوٹ تھی جو گرین پاکستان انیشی ایٹو جیسے عظیم منصوبے کے سامنے بھی کھڑی تھی۔ پاک فوج کی نگرانی میں شروع ہونے والے اس منصوبے میں چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے دوست ممالک کی سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون سے لاکھوں ایکڑ بنجر زمین کو قابلِ کاشت بنانے کا ہدف رکھا گیا۔ اس منصوبے کے تحت جدید کارپوریٹ فارمنگ، ڈیری فارمنگ، کیٹل فارمنگ، فش فارمنگ، پولٹری فارمنگ، زرعی برآمدات میں اضافہ اور فوڈ سیکیورٹی جیسے اہداف طے کیے گئے۔لیکن سوال وہی تھا: پانی کہاں سے آئے گا؟چولستان کے وسیع صحرا ہوں، بلوچستان کے بنجر میدان ہوں یا جنوبی پنجاب کے خشک علاقے، ہر منصوبے کی کامیابی کا دارومدار پانی پر تھا۔ نئی نہروں کے منصوبوں پر سیاسی اختلافات اور خاص طور پر سندھ میں شدید تحفظات نے اس بحث کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ نتیجتاً ایک ایسا منصوبہ، جو پاکستان کی معیشت کا رخ بدل سکتا تھا، سست روی کا شکار ہو گیا۔اب اگر چین کی کم لاگت سمندری پانی صاف کرنے والی ٹیکنالوجی واقعی عملی طور پر کامیاب ثابت ہوتی ہے تو شاید پہلی بار پاکستان کے پاس ایسا متبادل موجود ہوگا جو پانی کے اس دیرینہ بحران کو نئی سمت دے سکتا ہے۔ذرا تصور کیجیے کہ کراچی اور گوادر کے ساحلوں پر سورج کی روشنی سے چلنے والے کم لاگت واٹر ڈیسالینیشن پلانٹس لگ جائیں۔ روزانہ لاکھوں گیلن میٹھا پانی پیدا ہو۔ یہی پانی پائپ لائنوں کے ذریعے زرعی علاقوں تک پہنچے یا ساحلی علاقوں میں جدید گرین ہاؤسز اور ڈرپ ایریگیشن کے منصوبوں میں استعمال ہو۔کراچی کے شہری مہنگے واٹر ٹینکروں کے محتاج نہ رہیں۔ گوادر جیسے بندرگاہی شہر میں صنعتوں کو وافر پانی ملے۔ سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے کھارے زیرزمین پانی والے علاقوں میں لاکھوں افراد کو پہلی مرتبہ سستا اور صاف پانی دستیاب ہو۔اگر ڈرپ ایریگیشن کے ذریعے کپاس، زیتون، کھجور، آم، کینو، انگور، سبزیاں اور چارہ بڑے پیمانے پر کاشت ہونا شروع ہو جائے تو نہ صرف زرعی پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہوگا بلکہ گوشت، دودھ، مچھلی، انڈوں اور پھلوں کی پیداوار بھی نئی بلندیوں تک پہنچ سکتی ہے۔یہی نہیں، پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اضافہ، دیہی روزگار کے لاکھوں نئے مواقع، خوراک میں خود کفالت اور زرِ مبادلہ میں اربوں ڈالر کا اضافہ بھی اسی سلسلے کی کڑیاں بن سکتے ہیں۔اس وقت دنیا بھر میں پانی آئندہ دہائیوں کا سب سے اہم اسٹریٹجک وسیلہ بن چکا ہے۔ جو قومیں پانی کے مسئلے کو حل کر لیں گی، وہی زرعی، صنعتی اور معاشی دوڑ میں آگے نکلیں گی۔اسی لیے پاکستان کو اس موقع کو صرف ایک سائنسی خبر سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان، پاک فوج، ہائر ایجوکیشن کمیشن، پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز، انجینئرنگ جامعات اور نجی شعبہ فوری طور پر چین کے ساتھ مشترکہ تحقیقی پروگرام شروع کریں۔ اس نئی ٹیکنالوجی کے لائسنس، مشترکہ پیداوار اور مقامی تیاری پر مذاکرات کیے جائیں اور اسی سال کراچی، گوادر، ٹھٹھہ، بدین، چولستان اور مکران کے ساحلی علاقوں میں پروٹوٹائپ منصوبے شروع کیے جائیں۔اگر ابتدائی نتائج کامیاب رہتے ہیں تو پھر اس ٹیکنالوجی کو مرحلہ وار پورے ملک میں وسعت دی جا سکتی ہے۔قوموں کی تقدیر صرف وسائل سے نہیں بدلتی بلکہ صحیح وقت پر صحیح فیصلے کرنے سے بدلتی ہے۔ شاید پاکستان اس وقت ایسے ہی ایک تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر گرین پاکستان انیشی ایٹو کو جدید چینی واٹر ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو بعید نہیں کہ آنے والی نسلیں اس دور کو پاکستان کے سبز زرعی انقلاب کی ابتدا کے طور پر یاد کریں۔ممکن ہے چین کی لیبارٹری میں ہونے والی یہ سائنسی پیش رفت مستقبل میں پاکستان کے کھیتوں، باغات، شہروں اور صحراؤں کو نئی زندگی دینے کا ذریعہ بن جائے۔ اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں یا اسے بھی ماضی کے کئی مواقع کی طرح ضائع کر دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں