دنیا کی محبت، اخلاقیات کی اہمیت، اور روحانی زندگی
دنیا کی زندگی عارضی ہے، اور اس میں مال و دولت، شہرت، اور دنیوی آرائش کی محبت انسان کو اپنے اصل مقصد سے دور کر دیتی ہے۔ قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں بار بار اس بات کی طرف توجہ
دنیا کی زندگی عارضی ہے، اور اس میں مال و دولت، شہرت، اور دنیوی آرائش کی محبت انسان کو اپنے اصل مقصد سے دور کر دیتی ہے۔ قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں بار بار اس بات کی طرف توجہ
رمضان المبارک وہ مقدس مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں، برکتیں اور مغفرتیں نازل ہوتی ہے۔ یہ مہینہ عبادت، تزکی نفس اور اللہ سے قربت حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔ رمضان کے آخری دس دن
عالم لاہوت، عالم ناسوت اور عالم ملکوت کے موضوع پر قرآن، حدیث اور علما ء خاص طور پر مولانا جلال الدین رومی کے حوالوں سے پیش کیا جارہا ہے۔ یہ تینوں عالم اسلامی تصوف اور فلسفے میں بہت اہمیت رکھتے
کائنات، آسمان، ستارے، چاند، مریخ، زمین اور سمندر سے متعلق قرآنی آیات انسانی عقل کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں۔ قرآنِ کریم نے 1400 سال قبل ایسی حقیقتیں بیان کیں، جنہیں آج کا جدید علم اور سائنس تسلیم
رمضان المبارک کا مہینہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں، مغفرتوں اور جہنم سے نجات کا موسم بہار ہے۔ اس مہینے کو تین عشروں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں سے ہر عشرہ اپنے خاص فضائل اور برکات رکھتا ہے۔ پہلے
رمضان المبارک کا مہینہ اللہ تعالیٰ کی بے پناہ رحمتوں، مغفرتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اس ماہ کو تین حصوں میں تقسیم فرمایا: والہ رحمۃ، واوسطہ مغفِرۃ، وآخِرۃ عِتق مِن النارِاس کا پہلا عشرہ رحمت،
تعارف۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، معیشتی عدم استحکام، اور عام آدمی کی قوتِ خرید میں کمی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ ان مسائل کی بنیادی وجہ درمیان کے غیر ضروری مڈل مین (واسطہ کار) ہیں، جو پیداوار سے
رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمتوں، مغفرتوں، برکتوں اور نجات کا مہینہ ہے۔ یہ تقویٰ، صبر، خود احتسابی اور اللہ کے قرب کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ جلال الدین رومی ؒفرماتے ہیں،یہ دنیا ایک خواب ہے اور
انسانی تاریخ کے ایک منفرد اور بے مثال دور میں ہم داخل ہو چکے ہیں، جہاں مصنوعی ذہانت کی ترقی نے دنیا کو بدل کر رکھنے کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ ترقی نہ صرف ہمارے فہم اور اندازوں سے
حقیقی محبت وہ ہے جو اللہ کے لئے ہو، اللہ کی رضا کے لئے ہو اور اسی کی خاطر دلوں میں جاگزیں ہو۔ حدیث مبارکہ کے مطابق، قیامت کے دن، جب ہر شخص اپنی فکر میں ہوگا، سات خوش نصیب