جدید سائنس کی تحقیقات اور شہادت
قرآن اللہ کی کتاب اور علمِ حقیقت مطلق ہے، قرآن ہر دور اور ہر زمانے کے لیے ہدایت اور علم کا سرچشمہ رہا ہے۔قرآنِ مجید چودہ سو سال سے زیادہ عرصہ قبل نازل ہوا، مگر یہ کبھی کسی خاص زمانے
قرآن اللہ کی کتاب اور علمِ حقیقت مطلق ہے، قرآن ہر دور اور ہر زمانے کے لیے ہدایت اور علم کا سرچشمہ رہا ہے۔قرآنِ مجید چودہ سو سال سے زیادہ عرصہ قبل نازل ہوا، مگر یہ کبھی کسی خاص زمانے
تاریخ شاندار عظمت قوم کا واقعہ ‘ایک امام مسجد جو دودھ بھیج کر گزارا کرتا تھا۔ ایک قوم کی اللہ کی عطا کردہ قوت، شرف، ایمان اور کبھی سر نہ جھکانے والا حوصلہ۔ ترک قوم تاریخ کے ہر دور میں
انسان نے صدیوں اور تہذیبوں کے سفر میں ہمیشہ وجود کے پسِ پردہ کارفرما پوشیدہ نظام کو تلاش کرنے کی کوشش و جستجو کی ہے کچھ نے اسے نام دیا، اور کچھ نے نام دینے سے گریز کیا۔ کچھ نے
AI، AGI اور ASI عام ذہانت سے ماورا، انسانی فلاح کی بلندیوں کی جانب برق رفتار پیش رفت۔انسانی تاریخ میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جو محض سائنسی یا تکنیکی تبدیلی نہیں ہوتے بلکہ تہذیبوں کی سمت بدل دیتے ہیں۔
آج انسانیت ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑی ہے جو محض تکنیکی ترقی نہیں بلکہ انسانی شعور، شناخت، اقدار، تعلقات اور مقصدِ حیات کی ازسرِنو تشکیل ہے۔ یہ دور بجا طور پر جنریشن زیڈ کا دور کہلاتا ہے ایک ایسی
ہم اپنے عہد میں ایک گہرے مگر خاموش تضاد کے روبرو ہیں۔ دنیا بظاہر پہلے سے زیادہ مربوط، تیز رفتار اور طاقتور ہو چکی ہے، مگر انسان اندر سے زیادہ منتشر، مضطرب اور بے چین محسوس کرتا ہے۔ معلومات بے
گزشتہ دو دہائیوں میں ترکیہ نے جدید تاریخ کی سب سے نمایاں قومی تبدیلیوں میں سے نیا باب رقم کیا ہے۔ صدر رجب طیب اردوان کی قیادت میں ترکیہ عالمی فیصلہ سازی میں ایک بااعتماد، خودمختار اور بااثر طاقت کے
مصنوعی ذہانت — خطرہ يا ایک نشانی اور بیداری مصنوعی ذہانت اور اس کی آنے والی جدید صورتیں — خصوصاً آرٹیفیشل جنرل انٹیلی جنس (AGI) اور آرٹیفیشل سپر انٹیلی جنس (ASI) — انسانی تاریخ کا ایک عظیم اور فیصلہ کن
انسان کا سب سے بڑا بحران یہ نہیں کہ وہ دنیا کو نہیں جانتا، بلکہ یہ ہے کہ وہ خود کو نہیں جانتا۔کبھی وہ جسم کو اپنا اصل سمجھ لیتا ہے،کبھی دماغ کو،کبھی خواہش کو،اور کبھی روح اور نفس کو
ترکیہ کو یہ عظیم اعزاز اور برکت حاصل ہے کہ قونیہ کی سرزمین حضرت مولانا جلال الدین رومی کی آماجگاہ رہی ہے۔ قونیہ محض ایک شہر نہیں بلکہ محبت، حکمت اور روحانی یاد دہانی کا زندہ مرکز ہے۔ 753 برس