انسان نے صدیوں اور تہذیبوں کے سفر میں ہمیشہ وجود کے پسِ پردہ کارفرما پوشیدہ نظام کو تلاش کرنے کی کوشش و جستجو کی ہے کچھ نے اسے نام دیا، اور کچھ نے نام دینے سے گریز کیا۔ کچھ نے اسے قانون کہا، اور کچھ نے اسے محبت قرار دیا۔ قدیم چین میں اس حکمت کو داو دہ جِنگ کتابِ راہ کہا گیا۔
اسلام میں اسی حقیقت کو توحید، امرِ الٰہی اور عالمِ غیب کی زبان میں سمجھا جاتا ہے۔اگرچہ یہ دونوں روایات مختلف ثقافتوں میں ظہور پذیر ہوئیں، مگر دونوں ایک ہی مابعدالطبیعی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔یہ کائنات نہ حادثات ہے، نہ خود ساختہ، اور نہ ہی محض اتفاق بلکہ یہ ایک ایسے غیبی اور متعالی منبع طاقت سے ہے جو ہر شے کو قائم رکھتا ہے، تخلیق ا راز ربان ہے
تائو اور امرِ الٰہی‘تائوکوبغیر نام، بغیر صورت، غیر مرئی اور غیر مسموع بیان کیا گیا ہے۔ حواس اسے گرفت میں نہیں لے سکتے نہ دیکھ سکتے ہیں ، مگر ہر شے اسی کے ذریعے وجود میں آتی ہے۔
اسی کے امر سے تخلیق ہوئی ہے۔ یہ تصور قرآن کے اس فہم سے گہری ہم آہنگی رکھتا ہے جسے امر اللہ کہا جاتا ہے وہ امر جس کے ذریعے تخلیق ظہور میں آتی ہے:
تائو فکر و حمت جبر کے ذریعے عمل نہیں کرتا؛ اور نہ ہی اللہ۔(سورۃ یٰسین 36:82)
تخلیق کشمکش سے نہیں، بلکہ حکم، حکمت اور میزان سے ظہور پذیر ہوتی ہے۔
اسلامی مابعدالطبیعیات میں اللہ القدیر بھی ہے اور الحکیم بھی۔
قدرت، حکمت سے جدا نہیں بالکل اسی طرح جیسے تائوی فکر میں حقیقی قوت نرم، لطیف اور غیر جابرانہ ہوتی ہے۔
وو وے اور توکل‘تائو مت کی ایک بنیادی تعلیم وو وے ہے جسے عموماً لافعل کہا جاتا ہے،لیکن اس کا درست مفہوم ہے یعنی ایسا عمل جس میں انسان اپنی ذاتی خواہش کو حقیقت پر مسلط کرنے کے بجائے فطری نظام کو اپنے ذریعے کام کرنے دیتا ہے۔
اسلام میں تصور توکل ہے ‘اللہ پر بھروسا رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ عمل،بغیر اضطراب، غرور یا نتائج سے غیر فطری توقع کے۔
قرآن یاد دلاتا ہے۔وو وے اور توکل دونوں جبر آمیز کنٹرول کو رد کرتے ہیں۔
(سورۃ الطلاق 65:3)
یہ سکھاتے ہیں کہ جب انا پیچھے ہٹتی ہے تو حکمت آگے بڑھتی ہے،اور جب نفس تحلیل ہوتا ہے تو ہم آہنگی ظاہر ہوتی ہے۔
خلا اور فنا‘تائوی حکمت بار بار خلا کی بات کرتی ہے‘وہ خالی جگہ جو پیالے کو کارآمد بناتی ہے،وہ خاموشی جو آواز کو معنی عطا کرتی ہے۔خلا عدم نہیں، بلکہ امکان ہے۔
یہ صورت کا عکس ہے ‘اسلامی روحانیت اسی حقیقت کو فنا کے ذریعے بیان کرتی ہے ‘یعنی نفس کا مٹ جانا تاکہ حقیقتِ الہی کا مشاہدہ ممکن ہو۔ابنِ عربی نے تعلیم دی کہ جب بندے میں جدائی کا وہم تحلیل ہو جاتا ہے،تو صفاتِ الہیہ اس میں ظاہر ہوتی ہیں ‘نہ بطور شناخت، بلکہ بطور انعکاس۔یوں تائو مت کا خلا اور اسلام کا فنا‘وجود کی نفی نہیں،بلکہ وجودِ حقیقی کی طرف دروازے ہیں۔
حکیم اور عارف تائو اور اسلامی فکر ‘تائوی حکیم وہ ہے جوبلا تسلط حکومت کرتا ہے،بلا نمائش عمل کرتا ہے،اور بلا کنٹرول اثر ڈالتا ہے۔وہ اپنی حکمت کا اعلان نہیں کرتا؛وہ اس کے ثمرات سے پہچانا جاتا ہے۔
اسلام میں اس کے مشابہ عارف باللہ ہے‘جس کی موجودگی سکون بخشتی ہے،جس کی خاموشی تعلیم دیتی ہے،اور جس کے اعمال خودنمائی سے پاک ہوتے ہیں۔
جیسا کہ مولانا جلال الدین رومی نے فرمایا: اللہ تک پہنچنے کا راستہ اللہ توحید کو زندگی کا مرکز و محور بنانا اور اپنی نفی کرکے یقین کرنا ہے حقیقت مطلق ازلی و ابدی صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ جب انا مٹتی ہے، تو اللہ ظاہر ہوتا ہے ‘حکیم اور عارف دونوں اس دنیا میں احتیاط کے ساتھ جیتے ہیں،ایسی حقیقت میں جڑے ہوئے جو دنیا سے ماورا ہے۔
ہمارے عہد کے لیے مشترک تنبیہ‘تائو حکمت اور اسلامی مابعدالطبیعیات دونوں افراط، غرور اور غلبے سے خبردار کرتی ہیں۔ جب انسان منبع کو بھول جاتا ہے، تو وہ خود بھٹکتا اور بے سکون رہتا ہے اور جب قوت حکمت سے جدا ہو جائے، تو تہذیب زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔ تائو سکھاتا ہے کہ دنیا کو زبردستی موڑنا اسے توڑ دیتا ہے۔
اسلام سکھاتا ہے کہ فساد اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب انسان اپنی حد سے تجاوز کرتا ہے اور انا و خودی کا گمان کرتاہے ۔
ٹیکنالوجی، اور مصنوعی ذہانت کے زمانہ انا پر مبنی ترقی کا زمانہ ہے اس دور میں اسلام اور قدیم تائو کی تعلیمات اور مشترک حکمت و دانائی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہیں ۔
تواضع کے بغیر علم اندھا کر دیتا ہے، اخلاق کے بغیر قوت تباہ کر دیتی ہے،اور باطنی ہم آہنگی کے بغیر عمل فتنہ بن جاتا ہے۔
ایک حقیقت، کئی زبانیں‘ تائو اسلام نہیں،اور اسلام تائو مت نہیں۔ان کے انداز مختلف ہیں،ان کی زبانیں جدا ہیں،اور ان کی وحی ایک نہیں۔لیکن سفر و تلاش حق لگن اور مقصد و منزل مابعدالطبیعی بصیرت کی سطح پرایک ہی افق پر ملتے ہیںکہ حقیقت حق ایک غیب سے نمودار ہوتی ہے- اور انا و خود حقیقت کو ڈھانپ دیتی ہے حکمت نرم ہوتی ہے اور غلبہ نہیں، بلکہ ہم آہنگی راستہ ہے- حق ے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے حق سچ کا دروازہ کھلتا ہے ۔ تائو اسے راستہ کہتا ہے۔ اسلام اسے حق کے سامنے سر تسلیم خم کہتا ہے۔یعنی اللہ تک پہنچنے کا راستہ ۔
جس پر شیخ عبدالقادر جیلانی نے ایک کتاب بھی تحریر کی۔ اللہ کی راہ – الطریق الی اللہ ‘ الفاظ مختلف مگر نور ایک۔
اور شاید یہی گہری ترین حکمت ہے: حقیقت حق کسی تہذیب کی ملکیت نہیں،بلکہ تہذیبیں حقیقت حق کی تابع ہیں۔ ہمیں متلاشیان حق بنے رہنا چاہئے۔