سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ توہین رسالت کے مقدمات میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے بعد اپیلوں کی سماعت کے مرحلے پر مجرمان کے ذہنی مریض ہونے کے متعلق جمع کرائی گئی میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر اگر مجرمان کو ریلیف دیا گیا تو اس سے ان جیسے دوسرے لوگوں کو بھی توہین رسالت کے جرم کا ارتکاب کرنے کا لائسنس مل جائے گا۔ منگل کے دن توہین رسالت کے مرتکب سزاء یافتہ چار مجرمان کی جانب سے سزائے موت کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے وفاقی شرعی عدالت کی جانب سے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی سے توہین رسالت کے مرتکب مجرم کو صرف سزائے موت دینے اور عمر قید کی سزاء کو ختم کرنے کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ کی جانب سے مذکورہ دفعہ سے عمر قید کی سزاء کو حذف کرنے کے متعلق کوئی قانون سازی نہ کرنے اور توہین رسالت کے ملزمان کے خلاف مقدمات کی پیروی کرنے والوں کو گینگ کہنے پر بھی اہم سوالات اٹھا دیئے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں توہین رسالت کے مرتکب سزاء یافتہ مجرمان کی جانب سے سزائے موت کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت فاضل جسٹس ملک شہزاد احمد خان،جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی فاضل بینچ نے کی۔دوران سماعت مذکورہ مجرمان کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ میڈیکل بورڈ نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرائی ہے کہ ایک ملزم کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔اس پر فاضل بینچ کے رکن جسٹس عقیل احمد عباسی نے ریمارکس دیئے کہ”ہم نے مقدمے کا ریکارڈ دیکھا ہے۔مذکورہ دو مجرمان کا ٹرائل کے دوران بھی میڈیکل کروایا گیا تھا۔ٹرائل کورٹ میں میڈیکل بورڈ کی جانب سے جو رپورٹ جمع کرائی گئی تھی،اس کے مطابق مذکورہ مجرمان ذہنی طور پر بالکل فٹ تھے۔میڈیکل بورڈ کی جانب سے ٹرائل کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کو کسی بھی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا تھا۔یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ اب مجرمان کی ذہنی حالت کیا ہے بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ جرم کرتے ہوئے مجرمان کی ذہنی حالت کیا تھی۔اگر وقوعہ کے وقت کوئی شخص ذہنی مریض ہو تو اسے رعایت دی جا سکتی ہے لیکن اگر کوئی ذہنی طور پر فٹ شخص توہین رسالت کا ارتکاب کرے تو اسے ضرور وہ سزاء ملنی چاہئیے،جو قانون میں ہے۔ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے بعد اپیلوں کی سماعت کے مرحلے پر سزاء یافتہ شخص کو ذہنی مریض قرار دینے کے متعلق جمع کرائی گئی میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر اگر مجرمان کو ریلیف دیا گیا تو اس سے ان جیسے دوسرے لوگوں کو بھی توہین رسالت کے جرم کے ارتکاب کا لائسنس مل جائے گا۔یہ تو بڑا آسان ہو جائے گا کہ پہلے توہین رسالت کرو اور اگر سزاء ہو جائے تو پھر ذہنی مریض ہونے کے متعلق کوئی میڈیکل رپورٹ لاکر ریلیف حاصل کر لو”۔اس پر مذکورہ مجرمان کے وکیل نے کہا کہ”ٹرائل کورٹ میں میڈیکل بورڈ کی جانب سے جب رپورٹ جمع کرائی گئی تھی،اس وقت ڈاکٹرز نے یہ کہا تھا کہ ہمارے پاس کسی شخص کی مکمل ذہنی حالت کو جانچنے کی کوئی صلاحیت نہیں ہے”۔ جس پر فاضل جسٹس عقیل احمد عباسی نے استفسار کیا کہ”ہمیں دکھائیں کہ کہاں ڈاکٹرز نے وہ کہا،جو آپ بیان کررہے ہیں”۔اس پر مذکورہ وکیل فائل کو پرکھنے لگ گئے۔جس پر فاضل جسٹس عقیل احمد عباسی نے مذکورہ مجرمان کے وکیل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ”آپ کیوں عدالت میں غلط بیانی کرتے ہیں؟پہلے بھی آپ نے ایک عدالتی نظیر کا حوالہ دیکر اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی۔جب ہم نے وہ عدالتی نظیر دیکھی تو اس میں ایسی کوئی بات نہیں تھی،جیسا آپ نے بیان کیا۔اب پھر آپ نے غلط بات کی ہے اور اب ہمارے سامنے کھڑے ہوکر فائل کو ایسے دیکھ رہے ہیں کہ جیسے ہمارے سامنے کوئی ایسا نوجوان وکیل کھڑا ہے،جس نے نئی نئی وکالت شروع کی ہے۔یہ کیسا روئیہ ہے آپ کا؟”۔اس موقع پر فاضل بینچ کے سربراہ جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے استفسار کیا کہ”کیا توہین رسالت کے مرتکب شخص کو سزائے موت کے بجائے عمر قید کی سزاء بھی دی جاسکتی ہے؟”۔اس پر مدعی مقدمہ کے وکیل غلام مصطفیٰ چوہدری نے جواب دیا کہ”توہین رسالت کی سزاء کے متعلق جب تعزیرات پاکستان میں دفعہ 295 سی کا اضافہ کیا گیا تھا تو اس وقت اس قانون میں سزائے موت اور عمر قید دونوں سزائیں شامل تھیں۔مگر عمر قید کی سزاء کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا گیا اور PLD 1991 FSC 10 میں وفاقی شرعی عدالت نے قرار دیا کہ توہین رسالت کے جرم کے مرتکب مجرم کو صرف سزائے موت دی جا سکتی ہے۔توہین رسالت کے مرتکب مجرم کو عمر قید کی سزاء دینا قرآن و سنت کے خلاف ہے۔لہذا وفاقی شرعی عدالت کے مذکورہ فیصلے کے بعد توہین رسالت کی سزاء صرف سزائے موت ہے”۔اس پر فاضل بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ”وفاقی شرعی عدالت کے مذکورہ فیصلے کے بعد کیا ایگزیکٹو نے پارلیمنٹ کے ذریعے کوئی قانون سازی کرکے دفعہ 295 سی سے عمر قید کی سزاء کو ختم کیا؟”۔جس پر مدعی مقدمہ کے وکیل نے جواب دیا کہ”وفاقی شرعی عدالت نے اپنے مذکورہ فیصلے میں وفاقی حکومت کو دفعہ 295 سی سے عمر قید کو ختم کرنے کے لئے ایک مقرر مدت دی تھی۔وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ اگر وفاقی حکومت نے مقررہ مدت کے دوران قانون سازی کے ذریعے دفعہ 295 سی سے عمر قید کی سزاء کو حذف نہ کیا تو مقررہ مدت گزر جانے کے بعد عمر قید کی سزاء مذکورہ دفعہ سے حذف تصور ہو گی۔(جاری ہے)