Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

پنجاب کا بجٹ،اعداد و شمار کا دھوکا یا عوامی امنگوں کا جواب؟

پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ، آبادی کے اعتبار سے بھی، معیشت کے اعتبار سے بھی اور سیاسی اثر و رسوخ کے حوالے سے بھی۔ اسی لیے پنجاب کا بجٹ محض مالی دستاویز نہیں ہوتا بلکہ یہ صوبے کے کروڑوں شہریوں کی امیدوں، امنگوں اور مستقبل کے خوابوں کا ضامن ہوتا ہے۔ امسال 2026-27 کے لیے پیش کیا گیا بجٹ بھی اسی وجہ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ حکومت پنجاب نے اسے ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کا بجٹ قرار دیا ہے، جبکہ ناقدین اسے اعداد و شمار کا ایسا خوشنما گورکھ دھندا قرار دے رہے ہیں جس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچتے پہنچتے اگلا بجٹ سر پر آن پہنچے گا۔ پنجاب حکومت نے تقریباً 6 کھرب روپے کے حجم کا بجٹ پیش کیا ہے جو صوبے کی تاریخ کے بڑے بجٹوں میں شمار ہوتا ہے۔ ترقیاتی پروگرام کے لیے تقریباً 1.45 ٹریلین روپے مختص کیے گئے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت، زراعت اور شہری سہولیات پر توجہ مرکوز کرنا چاہتی ہے۔حکومت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب پاکستان مجموعی طور پر مالی دباؤ، قرضوں کی ادائیگی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شرائط کے حضور سر نگوں ہے۔ ایسے ماحول میں ترقیاتی اخراجات کے لیے اتنی بڑی رقم مختص کرنا ایک مثبت اقدام قرار دیا جا سکتا ہے ؟تاہم سوال یہ ہے کہ کیا بڑے اعداد و شمار خود بخود عوامی خوشحالی میں تبدیل ہو جاتے ہیں؟پنجاب کے دیہی علاقوں میں آج بھی کسان مہنگی کھاد، بجلی کے نرخوں اور پانی کی قلت جیسے مسائل سے نبرد آزما دکھائی دیتا ہے۔ جنوبی پنجاب کے پسماندہ اضلاع اب بھی صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولیات کے لیے ترس رہے ہیں۔ نوجوان ڈگریاں لے کر روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ ایسے میں عوام کے لیئے اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ بجٹ میں رکھی گئی رقوم زمینی سطح پر کس حد تک نتائج پیدا کرتی ہیں؟یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں کا بڑا حصہ اکثر فائلوں کا پیٹ بھرنے کے لئے ہوتا ہے۔ جبکہ عام شہری کو اس کے اثرات دیر سے محسوس ہوتے ہیں۔ سڑکیں ادھیڑتے اور ان بخیہ گری کرتے ہوئے، انڈر پاس کی تعمیر، میٹرو اور فلائی اوورز کے منصوبے شروع ہونے اور کی تکمیل کے بعد ریکارڈ کے خاکستر ہوجانے پر۔تاہم یہ سوال اپنی جگہ پر رہتا ہے کہ کیا عام آدمی کی آمدن میں بھی اضافہ ہو رہا ہے؟ کیا مہنگائی کے بوجھ میں کمی آ رہی ہے؟ کیا بے روزگار نوجوان کو روزگار مل رہا ہے؟پنجاب کے موجودہ بجٹ میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے بھی نمایاں رقوم رکھی گئی ہیں۔ یہ خوش آئند بات ہے کیونکہ دنیا کی ترقی یافتہ اقوام نے اپنی بنیاد انسانی وسائل کی ترقی پر رکھی۔ اگر سکولز میں معیاری تعلیم اور ہسپتالوں میں بہتر علاج کی سہولیات میسر نہ ہو ں تو ترقیاتی منصوبوں کی چمک وقتی ثابت ہوتی ہے۔ صحت کے شعبے میں نئے ہسپتالوں، موجودہ مراکز کی بہتری اور ادویات کی فراہمی کے اعلانات کئے گئے ہیں۔ لیکن پنجاب کے دور دراز علاقوں میں آج بھی مریضوں کو بڑے شہروں کی دیکھنا پڑتا ہے۔ اگر بجٹ کے ثمرات واقعی عوام تک پہنچانے ہیں تو وسائل کا رخ لاہور اور چند بڑے شہروں سے نکال کر چھوٹے اضلاع اور دیہی علاقوں کی طرف موڑنا ہوگا۔اسی طرح تعلیم کے شعبے میں عمارتیں تعمیر کرنے سے زیادہ اہم اساتذہ کی تربیت، نصاب کی بہتری اور جدید تقاضوں کے مطابق تعلیمی نظام کی تشکیل کو ترجیح دینا ہوگی۔ آج کا نوجوان صرف ڈگری نہیں بلکہ مہارت چاہتا ہے۔ اگر بجٹ میں فنی تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کوبھی ہدف بنایاجائے تو یہ مستقبل کی سرمایہ کاری ہوگی۔پنجاب حکومت کی ایک قابلِ ذکر ترجیح انفراسٹرکچر کی تعمیر ہے۔ سڑکیں، پل، شہری ٹرانسپورٹ اور آبپاشی کے منصوبے یقیناً ترقی کے لیے ضروری ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ انفراسٹرکچر کا اصل مقصد عوام کی زندگی آسان بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ صرف حکمرانوں کی تصاویر سے مزین تشہیرجس پر سالانہ کروڑوں روپے کے اخراجات اٹھیں، بلکہ اس سستی شہرت کا بجٹ رکھنے کی بجائے رقوم غریبوں کے مفت علاج معالجے کے لئے رکھی جائیں ۔ عوام کو یہ دکھائیں کہ ان منصوبوں سے ان کے روزگار، کاروبار اور معیارِ زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بجٹ پر انگلیاں اٹھانے والوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے ٹیکسوں سے گریز کیا گیا ہے، لیکن بالواسطہ ٹیکسوں اور مہنگائی کے اثرات بدستور پورا سال کو عوام کا پیچھاکریں گے۔ دوسری طرف حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں ٹیکس فری بجٹ خود ایک بڑی رعایت ہے۔حقیقت شاید ان دونوں مؤقف کے درمیان کہیں موجود ہے۔ عوام کو صرف یہ نہیں دیکھنا کہ بجٹ میں کتنی رقم رکھی گئی بلکہ یہ بھی دیکھنا ہے کہ اس رقم کا استعمال کتنا شفاف اور سود مند ہوتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے بدعنوانی، ناقص منصوبہ بندی اور سیاسی رشوتوں کی نذر ہوتے رہے ہیں۔ اگر حکومت واقعی تبدیلی چاہتی ہے تو اسے شفافیت، احتساب اور کارکردگی کو یقینی بنانا ہوگا۔ایک اور اہم پہلو جنوبی پنجاب کا ہے۔ برسوں سے اس خطے کے عوام ترقیاتی وسائل میں اپنے حصے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔ اگر موجودہ بجٹ میں جنوبی پنجاب کے لیے مختص رقوم عملی طور پر خرچ ہوئیں تو یہ علاقائی محرومیوں کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔جو کہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔پنجاب فنانس ڈیپارٹمنٹ ہا کہنا ہے کہ “یہ بجٹ ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب ملک مجموعی طور پر معاشی استحکام کی کوشش کر رہا ہے۔ وفاقی سطح پر بھی مالی نظم و ضبط، قرضوں کی ادائیگی اور محدود وسائل کے باعث ترقیاتی اخراجات دباؤ کا شکار ہیں۔ اس تناظر میں پنجاب کی مالی حکمت عملی پورے ملک کی معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ” یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بجٹ محض اعلانات اعدادو شمار کے کھیل کا نام نہیں۔ بجٹ دراصل حکمرانی کا امتحان ہوتا ہے۔ عوام سڑکوں پر لگے اشتہارات سے نہیں بلکہ اپنی روزمرہ زندگی میں آنے والی آسانیوں سے حکومتوں کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اگر کسان کی فصل بہتر قیمت پر فروخت ہو، نوجوان کو روزگار ملے، مریض کو علاج میسر آئے، طالب علم کو معیاری تعلیم ملے اور شہری کو بنیادی سہولیات حاصل ہوں تو بجٹ کامیاب سمجھا جائے گا۔پنجاب کے بجٹ 2026-27 کے بارے میں حتمی رائے آج نہیں دی جا سکتی۔ اس کا فیصلہ آنے والے مہینوں میں ہوگا جب اعداد و شمار کاغذوں سے نکل کر گلیوں، کھیتوں،کھلیانوں، سکولوں، ہسپتالوں اور بازاروں میں دکھائی دیں گے۔ اگر یہ بجٹ عوام کی زندگی میں حقیقی آسانی پیدا کر سکا تو اسے کامیاب کہا جائے گا، اور اگر یہ صرف سرکاری فائلوں اور تقریروں تک محدود رہا تو یہ بھی ماضی کے بہت سے بجٹوں کی طرح ایک اور گم شدہ وعدہ بن کر رہ جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں