Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

پرانے عالمی نظام کا خاتمہ اور روحانی بیداری

ہم اپنے عہد میں ایک گہرے مگر خاموش تضاد کے روبرو ہیں۔ دنیا بظاہر پہلے سے زیادہ مربوط، تیز رفتار اور طاقتور ہو چکی ہے، مگر انسان اندر سے زیادہ منتشر، مضطرب اور بے چین محسوس کرتا ہے۔ معلومات بے پناہ ہیں، مگر بصیرت کم یاب؛ سہولتیں وافر ہیں، مگر سکون ناپید؛ ٹیکنالوجی نے اختیار بڑھا دیا ہے، مگر دل سے اطمینان چھین لیا ہے۔ یہ کیفیت محض وقتی نہیں، بلکہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ حالیہ نظام اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے اور نیا عالم نظام نمودار ہورہاہے۔یہ تبدیلی صرف حکومتوں، معیشتوں یا عالمی اتحادوں کی سطح تک محدود نہیں۔ دراصل وہ داخلی عالمی نظام زوال پذیر ہے جس کے ذریعے جدید انسان نے خود کو اور زندگی کو سمجھاایک ایسا تصور جس میں حقیقت کو محض مادی دائرے تک محدود کر دیا گیا اور حقیق معنویت کو ثانوی یا اختیاری بنا دیا گیا۔ اسی لیے آج یہ احساس تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ ہم محض ایک بحران سے نہیں گزر رہے، بلکہ ایک دنیا کے خاتمے اور دوسری کے آغاز کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ صدیوں تک عالمی تہذیب ایک مفروضے پر قائم رہی، انسان بنیادی طور پر ایک ذہین حیوان ہے، زندگی کا مقصد زیادہ سے زیادہ پیداوار اور مصرف ہے اور کامیابی کا معیار طاقت و دولت اور غلبہ ہے۔ اور یہ غلبہ منڈیوں ، ذرائع اور انسانوں پرہے۔ اسی سوچ نے صنعت، سائنس اور ٹیکنالوجی میں حیران کن ترقی دی، مگر اسی کے ساتھ انسان کو اس کے باطن سے اور اصل حقیقت سے دور کر دیا۔
روحانی پہلو کو غیر سائنسی یا غیر علمی اور غیر عملی کہہ کر پس منظر میں دھکیل دیا گیا۔ نتیجتاً ایک ایسا خلا پیدا ہوا جسے دولت، سیاحت اور مسلسل مصروفیت بھی پر نہ کر سکیں۔ انسان مادی آسائشوں اور غیر حقیق مصنوع چمک دھمک میں پڑہ کر حقیقت میں اپنے کو تنہا اور اندر سے خال کربیٹھا۔ ظاہر میں کامیاب مگر اندر سے کھوکھلا ہوکر اندر ہی اندر گھٹن کا شکار ہوگیا یہ وہ خاموش شکست ہے جو آج اجتماعی بے چینی، ذہنی صحت کے بحران، رشتوں کی کمزوری اور زندگی کے بے معنی محسوس ہونے کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ کوئی نظام اندر سے خالی ہو کر بھی کچھ عرصہ چل سکتا ہے، مگر جب انسانی دل معنی سے خالی ہو جائیں تو یہ کیفیت دیرپا نہیں رہتی۔ ایک وقت آتا ہے جب یہ خلا سوال بن کر سامنے آ کھڑا ہوتا ہیاور جواب کا تقاضا کرتا ہے۔اسی لئے آج یہ احساس عام ہو رہا ہے کہ پرانا نظام محض سیاسی یا معاشی طور پر غیر مستحکم نہیں، بلکہ روحانی طور پر تھک چکا ہے۔ تنہائی کی وبا، اعتماد کی کمی، خاندانی ڈھانچوں کی کمزوری، لت زدہ صارفیت اور مقدس معنی کا گم ہونایہ سب محض سماجی مسائل نہیں، بلکہ ایک بڑے تہذیبی زوال کی علامات ہیں۔ دولت اور آزادی کے باوجود انسان ایک بے نام کمی کے احساس میں گھرا رہتا ہے۔ یہ محض ثقافتی تبدیلی نہیں؛ یہ ایک فیصلہ کن تہذیبی موڑ ہے۔عقل بھی اسی سمت اشارہ کرتی ہے۔ جب کوئی نظری حیات زندگی کے بنیادی سوالات کا تسلی بخش جواب نہ دے سکیمیں کون ہوں؟ میں کیوں ہوں؟ قربانی کا مفہوم کیا ہے؟ دکھ کو معنی کیسے ملتا ہے؟تو وہ آہستہ آہستہ اپنی بنیاد کھو دیتا ہے۔ معاشرہ شور، تفریح اور مسلسل مصروفیت کے ذریعے ان سوالات کو مخر تو کر سکتا ہے، مٹا نہیں سکتا۔ انسان محض عقل نہیں، وہ معنی تلاش کرنے والی ہستی ہے۔ جب معنی غائب ہوں تو مایوسی بڑھتی ہے اور نظام اپنی جڑوں سے کمزور ہو جاتا ہے۔ تاہم پرانے نظام کا انہدام صرف سانحہ نہیں، یہ ایک دروازہ بھی ہے۔ جب بیرونی دیواریں گرتی ہیں تو اندرونی در کھلتے ہیں۔ جب جھوٹی حفاظتیں ٹوٹتی ہیں تو سچ کی بھوک جاگتی ہے۔ اسی مقام پر روحانی بیداری محض ایک رومانوی تصور نہیں رہتی، بلکہ ایک فطری اور ناگزیر حقیقت بن جاتی ہے۔روحانی بیداری کا مفہوم دنیا ترک کرنا نہیں، بلکہ خود کو یاد کرنا ہے۔ انسان کی اصل نیند لاعلمی نہیں؛ خود فراموشی ہے۔ وہ بہت کچھ جان لیتا ہے، مگر خود کو نہیں جانتا؛ علم حاصل کرتا ہے، مگر حکمت سے محروم رہتا ہے؛ آزادی پاتا ہے، مگر سمت کھو دیتا ہے۔
اس معنی میں موجودہ عالمی بیداری دراصل ایک یاد دہانی ہے کہ علم اور بصیرت ایک نہیں، طاقت اور مقصد ایک نہیں۔اسی تناظر میں روحانی بیداری کا ایک نہایت اہم اور دور رس پہلو بھی سامنے آ رہا ہے، اللہ کو واحد، لا شریک ماننے والے ادیان کے درمیان فکری اور اخلاقی قربت۔ موجودہ دور میں، جب مادی طاقت، فریب پر مبنی بیانیے اور جھوٹے نجات دہندہ تصورات خود بے نقاب ہو رہے ہیں، تو ایک مشترک روحانی شعور ابھر رہا ہے۔ یہ شعور اس حقیقت کی طرف لوٹا رہا ہے کہ اصل تقسیم مذاہب کے درمیان نہیں، بلکہ حق اور فریب کے درمیان ہے۔اسی پس منظر میں بہت سے اہلِ ایمان اس عہد کو دجالی نظام اور دجالی دور کے زوال کے طور پر دیکھ رہے ہیںایک ایسا نظام جس نے جھوٹ کو سچ، فریب کو ترقی، اور طاقت کو حق کے طور پر پیش کیا۔ جب فریب کے یہ پردے اٹھنے لگتے ہیں تو انسان پر یہ حقیقت واضح ہونے لگتی ہے کہ اصل امتحان طاقت کا نہیں، بصیرت اور ایمان کا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں الہامی روایتوں میں دی گئی نزولِ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کی بشارت محض ایک مستقبل کا عقیدہ نہیں، بلکہ ایک زندہ اخلاقی امید کے طور پر قریب محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہ عدل کے قیام، فریب کے خاتمے اور بندگیِ خدا کی واپسی کی علامت ہیوہ وقت جب انسان دوبارہ طاقت نہیں، حق کے سامنے جھکے گا۔روحانی بیداری کسی ایک قوم، نسل یا فرقے تک محدود نہیں۔ یہ ایک عالمی دعوت ہیاللہ کی وحدانیت کو ماننے والوں کے لیے بھی، اور ان تمام انسانوں کے لئے بھی جو سچ، عدل اور امانت کے متلاشی ہیں۔ یہی وہ مشترک بنیاد ہے جس پر آئندہ روحانی دنیا کی تعمیر ممکن ہے۔حقیق روحانی بیداری عقل کو جذبے سے بدلتی نہیں، بلکہ دونوں کو ہم آہنگ کرتی ہے۔ وہ سائنس کو رد نہیں کرتی؛ اسے اخلاقی فریم میں رکھتی ہے۔ وہ ٹیکنالوجی کو نہیں توڑتی، بلکہ اس سے سوال کرتی ہے کہ مقصد کیا ہے اور انجام کس سمت جا رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی اس دور کا سب سے بڑا امتحان بن چکی ہیں، کیونکہ طاقتور اوزار انسان کی اصل نیت کو بے نقاب کر دیتے ہیں۔اسی لیے یہ عہد ایک طرح کے انکشاف کا زمانہ ہے۔ پرانے اختیار، پرانی اجارہ داریاں اور جھوٹے تصورات بکھر رہے ہیں۔ مگر حقیقی بیداری محض تنقید نہیں؛ نئی داخلی ترتیب کی تعمیر ہے۔ اگر پرانی ساختیں گریں اور اخلاق، انکسار اور روحانی ذمہ داری پیدا نہ ہو تو نتیجہ نئی آمریتوں کی صورت میں نکلتا ہے تاریخ اس کی گواہ ہے۔پرانا عالمی نظام ختم ہو رہا ہے۔اور حقیق دور دوبارہ ابھر رہا ہے۔اصل سوال یہ نہیں کہ دنیا بدلے گی یا نہیںاصل سوال یہ ہے، کیا انسان دنیا بدلنے سے پہلے خود کو بدلنے کے لیے تیار ہے؟

یہ بھی پڑھیں