قرآن اللہ کی کتاب اور علمِ حقیقت مطلق ہے، قرآن ہر دور اور ہر زمانے کے لیے ہدایت اور علم کا سرچشمہ رہا ہے۔قرآنِ مجید چودہ سو سال سے زیادہ عرصہ قبل نازل ہوا، مگر یہ کبھی کسی خاص زمانے یا تاریخی دور تک محدود نہیں رہا۔ یہ ہر دور میں انسان کی عقل، فطرت اور ضمیر سے مخاطب ہوتا ہے۔ زمانے بدلتے رہے، علوم ترقی کرتے رہے، نظریات بنتے اور ٹوٹتے رہے، مگر قرآن اپنی صداقت اور معنویت کے ساتھ قائم رہا، کیونکہ اس کا سرچشمہ محدود انسانی علم نہیں بلکہ Divine علم ہے، اور Divine علم ہی مطلق حقیقت ہے، جس میں نہ خطا ہے اور نہ تغیر۔
آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں اسے سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور کہا جاتا ہے۔ انسان نے ایٹم کے راز کھولے، خلا کی وسعتوں تک رسائی حاصل کی، ڈی این اے کو ڈی کوڈ کیا، اور مصنوعی ذہانت تک تخلیق کرلی۔ اس حیران کن ترقی کے باوجود سائنس کے مختلف شعبوں میں ایک بنیادی حقیقت ابھر کر سامنے آ رہی ہے کہ کائنات بے مقصد نہیں، زندگی محض اتفاق نہیں، اور انسان کوئی معمولی یا بےمعنی وجود نہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے قرآن نے ابتدا ہی میں واضح کر دیا تھا۔انسانی علم تدریجی، نسبتی اور مسلسل تغیر پذیر ہوتا ہے۔ یہ مشاہدے، تجربے اور مفروضے پر قائم ہوتا ہے۔ جو بات آج سائنسی حقیقت سمجھی جاتی ہے، کل اس میں ترمیم ہو سکتی ہے یا وہ رد بھی ہو سکتی ہے۔ یہی انسانی علم کی فطری حد ہے۔ اس کے برعکس Divine علم کامل، جامع اور ازلی ہے۔ یہ وقت، تجربے یا اندازے کا محتاج نہیں۔ قرآن کہتا ہے:’’کیا وہ ذات جو پیدا کرتی ہے، نہیں جانتی؟ اور وہی تو نہایت باریک بین، سب کچھ جاننے والی ہے۔‘‘ (الملک: 14)
قرآن Divine علم کا مظہر ہے، اسی لیے وہ کبھی پرانا یا غیر متعلق نہیں ہوتا۔ سائنس دریافت کرتی ہے، جبکہ قرآن حقیقت کو اس کی بنیاد میں بیان کرتا ہے۔ایک عرصے تک بعض مادی فلسفے یہ دعویٰ کرتے رہے کہ کائنات بے مقصد وجود میں آئی اور یہ سب کچھ محض اتفاق کا نتیجہ ہے، مگر جدید سائنس خود اس سوچ سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔ فلکیات اور طبیعیات یہ واضح کرتی ہیں کہ کائنات نہایت باریک توازن پر قائم ہے، اور بنیادی قوانین میں معمولی سی تبدیلی بھی زندگی کو ناممکن بنا سکتی ہے۔ قرآن نے صدیوں پہلے اس حقیقت کو یوں بیان کیا:’’کیا تم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ ہم نے تمہیں بےمقصد پیدا کیا ہے؟” (المؤمنون: 115)اور فرمایا:’’ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔” (الأنبیاء: 16)
ڈی این اے کی دریافت نے زندگی کے بارے میں انسانی فہم کو یکسر بدل دیا ہے۔ اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ زندگی معلومات، نظم اور کوڈ پر قائم ہے۔ خلیات کی نشوونما، تقسیم، اعضا کی تشکیل اور وراثت سب ایک نہایت منظم نظام کے تحت انجام پاتے ہیں۔ یہ پیچیدگی اس تصور کو سخت چیلنج دیتی ہےکہ زندگی اندھی اتفاق سےوجود میں آ گئی۔ اتفاق کبھی ایسا مربوط اور معلومات پر مبنی نظام پیدا نہیں کر سکتا۔ قرآن ابتدا ہی سے حادثے کے تصور کو رد کرتا ہے اورواضح کرتا ہے:’’بےشک ہم نےہرچیز ایک اندازے کے ساتھ پیدا کی ہے۔” (القمر: 49)
قرآن انسانی تخلیق کو ایک تدریجی عمل کے طور پر بیان کرتا ہے جو مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں نازل ہوا جب علمِ جنین کا کوئی تصور موجود نہ تھا اور خلیاتی مشاہدے کے ذرائع بھی میسر نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’اور اس نے تمہیں مختلف مراحل میں پیدا کیا۔‘‘ (نوح: 14)اور فرمایا:’’پھر ہم نے نطفے کو علقہ بنایا، پھر علقے کو بوٹی کی شکل دی…‘‘ (المؤمنون: 14)
آج جدید علمِ جنین اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ انسانی وجود باقاعدہ مراحل اور نہایت دقیق نظم کے ساتھ تشکیل پاتا ہے، اور ان مراحل میں معمولی سی خرابی بھی سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ یہ ہم آہنگی اس بات کا ثبوت نہیں کہ قرآن سائنس کی کتاب ہے بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن جامع حقیقت کی سطح سے گفتگو کرتا ہے، نہ کہ جزوی تکنیکی تفصیلات سے۔سائنس اس بات کی وضاحت کر سکتی ہے کہ خلیات کیسے تقسیم ہوتے ہیں، جینز کیسے کام کرتے ہیں اور دماغ کی ساخت کیا ہے، مگر سائنس ان بنیادی سوالات کا جواب نہیں دے سکتی کہ شعور کیوں موجود ہے، اخلاقی ذمہ داری کیوں محسوس ہوتی ہے، انسان معنی کی تلاش کیوں کرتا ہے، اور حق و باطل میں فرق کیوں اہم ہے۔ یہ سوالات تجربہ گاہ سے باہر کے ہیں اور Divine علم سے تعلق رکھتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے:’’اور یہ لوگ تم سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دو روح میرے رب کے حکم سے ہے۔‘‘ (الإسراء: 85)
سائنسی نظریات وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، مگر قرآن کسی عارضی نظریے یا ماڈل کا پابند نہیں۔ وہ ایسے آفاقی اصول بیان کرتا ہے جو ہر دور میں برقرار رہتے ہیں، جیسے مقصد، توازن، ذمہ داری اور انجام۔ اسی لیے قرآن کے بارے میں فرمایا گیا:’’اس میں نہ آگے سے باطل آ سکتا ہے اور نہ پیچھے سے۔‘‘ (فصلت: 42)
جیسے جیسے سائنس آگے بڑھتی ہے، قرآنی نقطۂ نظر کمزور نہیں بلکہ مزید واضح ہوتا جاتا ہے۔قرآن صرف دنیاوی کامیابی کی رہنمائی نہیں کرتا بلکہ انسان کو اس کی ابدی منزل سے بھی جوڑتا ہے۔ مادی ترقی کےباوجود آج کا انسان اضطراب، اندرونی خلا اور اخلاقی الجھن کا شکار ہے۔ قرآن یاد دلاتا ہےکہ اصل سکون نہ طاقت سے ملتا ہے اور نہ محض علم سے بلکہ Divine حقیقت کو پہچاننے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے سے حاصل ہوتا ہے۔’’خبردار! اللہ کے ذکر ہی میں دلوں کو اطمینان ملتا ہے۔‘‘ (الرعد: 28)
جتنا انسان علم میں آگے بڑھ رہا ہے، اتنی ہی یہ حقیقت واضح ہو رہی ہے کہ تخلیق بے معنی نہیں، زندگی حادثہ نہیں، اور انسان معمولی نہیں۔ یہ وہ حقائق ہیں جو قرآن نے چودہ سو سال پہلے بیان کر دیے تھے، اور آج سائنس انہیں قدم بہ قدم دریافت کر رہی ہے۔
قرآن ہر زمانے کے لیے ہے، کیونکہ Divine علم ہی مطلق۔ حق اور سچ ہے