گزشتہ دو دہائیوں میں ترکیہ نے جدید تاریخ کی سب سے نمایاں قومی تبدیلیوں میں سے نیا باب رقم کیا ہے۔ صدر رجب طیب اردوان کی قیادت میں ترکیہ عالمی فیصلہ سازی میں ایک بااعتماد، خودمختار اور بااثر طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔ یہ عروج کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں، بلکہ طویل المدتی وژن، سمارٹ مستقل پالیسی اور تیزی سے بدلتی ہوئی کثیر قطبی دنیا میں ترکیہ کے کردار کا نتیجہ ہے۔جونیئر ریاست سے اسٹریٹجک طاقت تکسن 2000 ء کے آغاز میں ترکیہ کو اکثر ایک ضمنی کردار کے حامل ملک کے طور پر دیکھا جاتا تھاجغرافیائی لحاظ سے اہم، مگر سیاسی و معاشی طور پر بیرونی انحصار کا شکار۔ آج یہ تصور بنیادی طور پر بدل چکا ہے۔ ترکیہ اب امریکہ، برطانیہ، یورپ، روس، مشرقِ وسطی، خلیج، ایشیا اور افریقہ کے ساتھ بیک وقت سرگرم اور اہم سفارتی، معاشی اور دفاعی کردار ادا کر رہا ہے۔ترکیہ نے متوازن اور کثیرالجہتی خارجہ پالیسی اختیار کی ہیجس کی بنیاد خودمختاری، قومی مفاد اور اسٹریٹجک لچک پر ہے۔ ایک ایسے دور میں جب عالمی طاقت کسی ایک مرکز تک محدود نہیں رہی، یہی لچک ترکیہ کی اصل قوت بن چکی ہے۔انفراسٹرکچر: قومی طاقت کی ریڑھ کی ہڈیترکیہ کے عروج کی سب سے نمایاں بنیاد اس کا بے مثالی انفراسٹرکچر انقلاب ہے۔ گزشتہ بیس برسوں میں شاہراہیں، پل، سرنگیں، ریلویز، بندرگاہیں اور ہوائی اڈیسب کچھ ایک ہمہ گیر منصوبہ بندی کے تحت تعمیر ہوا۔ ان منصوبوں نے نہ صرف عوامی زندگی کو آسان بنایا بلکہ ترکیہ کی اسٹریٹجک و معاشی صلاحیت میں بھی غیر معمولی اضافہ کیا۔ان سرمایہ کاریوں نے ترکیہ کو یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطی کو جوڑنے والا قدرتی مرکز بنا دیا ہے۔
لاجسٹکس کوریڈورز، تیز رفتار ریل اور جدید ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس نے داخلی ہم آہنگی اور عالمی مسابقت کو مضبوط کیا۔ استنبول کا نیا عالمی ہوائی اڈہ اسی وژن کی علامت ہے انجینئرنگ کی برتری اور عالمی سطح پر کام کرنے کے عزم کا اظہار۔صنعتی ترقی اور تکنیکی خودمختار یا نفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ ترکیہ نے ملکی پیداواری صلاحیت اور تکنیکی خودانحصاری پر مبنی صنعتی پالیسی اپنائی۔ عالمی منڈیوں سے جڑے رہتے ہوئے بھی اہم شعبوں میں بیرونی انحصار کم کیا گیا۔اس تبدیلی کی نمایاں مثال ترکیہ کی پہلی مقامی الیکٹرک کار ہے۔ یہ صرف ایک گاڑی نہیں بلکہ مستقبل کی صنعتوںالیکٹرک موبیلیٹی، اسمارٹ مینوفیکچرنگ اور ڈیجیٹل انضماممیں ترکیہ کے داخلے کی علامت ہے۔ اب ترکیہ محض ٹیکنالوجی استعمال کرنے والا نہیں بلکہ اسے ڈیزائن، برانڈ اور برآمد کرنے والا ملک بن رہا ہے۔دفاعی حکمت عملی، انحصار سے خودکفالت تک سب سے گہری اسٹریٹجک تبدیلی دفاع اور سلامتی کے شعبے میں آئی ہے۔ ماضی میں بیرونی سپلائرز پر انحصار کرنے والا ترکیہ آج خودکفیل اور عالمی معیار کی دفاعی صنعت رکھتا ہے۔ مقامی ڈرونز، بحری پلیٹ فارمز، بکتر بند گاڑیاں، میزائل سسٹمز اور الیکٹرانک وارفیئر صلاحیتیں اب قومی دفاع کی بنیاد ہیں اور عالمی منڈی میں بھی طلب رکھتی ہیں۔اس تبدیلی نے ترکیہ کو وہ قیمتی اثاثہ دیا ہے جسے اسٹریٹجک خودمختاری کہتے ہیں۔ اب دفاعی فیصلے بیرونی دبائو کے بجائے طویل المدتی قومی منصوبہ بندی کی بنیاد پر ہوتے ہیںیہی کسی ابھرتی طاقت کی اصل پہچان ہے۔متوازن اور باوقار سفارت کاری ترکیہ کی سفارت کاری عملی، بااعتماد اور مفاد پر مبنی ہے۔ وہ نیٹو کے اندر خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے واشنگٹن اور لندن سے تعلقات رکھتا ہے، یورپ سے برابری کی بنیاد پر بات کرتا ہے، روس سے تعاون میں اپنے مفادات کی حفاظت کرتا ہے، اور خلیجی و عرب دنیا کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بناتا ہے ساتھ ہی ایشیاء و افریقہ میں اپنی موجودگی کو بڑھا رہا ہے۔یہ نظریاتی نہیں بلکہ اسٹریٹجک سفارت کاری ہے۔ خود مختار اور اپنے مفادات کے تحفظ ے بنیاد اصول بنیاد پر ترکیہ تنازعات میں ثالث، سہولت کار اور مختلف بلاکس کے درمیان پل بن رہا ہے۔
معاشی دبائو اور ابھرتی طاقتوں کی حقیقت ابھرتی طاقت کی طرح ترکیہ کو بھی معاشی چیلنجزمہنگائی، کرنسی میں اتار چڑھا اور عالمی جھٹکوںکا سامنا رہا ہے۔ یہ مسائل حقیقی ہیں، مگر وہ ان ریاستوں کی فطری آزمائش بھی ہیں جو گہری ساختی تبدیلی سے گزر رہی ہوں اور خودمختاری پر اصرار رکھتی ہوں۔اہم بات یہ ہے کہ ترکیہ نے قلیل المدتی سہولت کے بجائے طویل المدتی صلاحیت سازی کو ترجیح دیانفراسٹرکچر، دفاع، توانائی اور صنعت میں سرمایہ کاری اسی حکمتِ عملی کی عکاس ہے۔ جس ے نتائج مثبت انداز میں بتدریج ظاہر ہو رہے ہیں ثقافت، تعلیم اور تہذیبی اعتمادترکیہ کا عروج صرف مادی طاقت تک محدود نہیں۔ یہ ایک تاریخ ، تہذیبی اور ثقافتی اور بتدریج عروج ہے۔ میڈیا، تعلیم، انسانی امداد اور نرم طاقت کے ذریعے ترکیہ نے اپنی تاریخی گہرائی اور ثقافتی شناخت کو اعتماد کے ساتھ پیش کیا ہے اور اس کا اعتراف کیا جارہا ہے جامعات، تحقیقی و تعلیمی ادارے اور ثقافتی پلیٹ فارمز ترکیہ کو مشرق و مغرب کے درمیان فکری تبادلے کے مرکز کے طور پر مستحکم کر رہے ہیںجدید نقطہ نظر کے ساتھ، مگر اپنی بنیادوں سے وابستہ۔2026 ء ایک اسٹریٹجک دہلیز، اختتام نہیں 2026ء ترکیہ کے لئے ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ دو دہائیوں سے زائد کی قیادت اب ادارہ جاتی مضبوطی میں ڈھل چکی ہے۔ دفاعی خودکفالت، انفراسٹرکچر، صنعتی صلاحیت اور سفارتی رسوخ ترقی کے مرحلے سے نکل کر استحکام کے مرحلے میں داخل ہوں گے۔2026 ء کے بعد توجہ بنیادیں بنانے سے ہٹ کر قدر کی تخلیق پر مرکوز ہوگیاعلی صنعت، جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، دفاعی برآمدات، توانائی میں جدت اور پائیدار ترقی۔ سفارتی سطح پر ترکیہ مزید واضح طور پر ایک توازن قائم کرنے والی طاقت بن کر سامنے آئے گا۔معاشی چیلنجز موجود رہ سکتے ہیں، مگر متنوع تجارتی نیٹ ورکس اور یک طرفہ انحصار میں کمی ترکیہ کو ساختی مضبوطی فراہم کرے گی۔ علامتی طور پر، 2026ء وہ لمحہ ہوگا جب ترکیہ کا عروج ابھر رہا ہے سے آگے بڑھ کر قائم شدہ حقیقت تسلیم کیا جائے گا۔کثیر قطبی مستقبل میں ترکیہ اکیسویں صدی کے کثیر قطبی منظرنامے میں ترکیہ اب جونیئر ریاست نہیں رہا۔ سیاسی اعتماد، اسٹریٹجک خودمختاری اور تہذیبی شعور کے ساتھ یہ ملک سیاست، دفاع، تجارت، صنعت، ثقافت اور تعلیم ہر میدان میں آگے بڑھ رہا ہے اور بین الاقوامی طاقت کا اہم کردار دو دہائیوں کی قیادت نے ترکیہ کو نچلی سطح سے انٹرنیشنل سطح تک پہنچایا ہے۔ چیلنجز باقی ہیں، مگر سمت واضح ہے، ترکیہ ایک پیروکار نہیں بلکہ اپنی تقدیر خود تراشنے والی طاقت کے طور پر ابھر چکا ہے اور ابھرتی عالمی ترتیب میں توازن اور استحکام میں بامعنی کردار ادا کر رہا ہے اور خود مختار وباقار عالم ریاست و طاقت بن رہا ہے۔