ترکیہ کو یہ عظیم اعزاز اور برکت حاصل ہے کہ قونیہ کی سرزمین حضرت مولانا جلال الدین رومی کی آماجگاہ رہی ہے۔ قونیہ محض ایک شہر نہیں بلکہ محبت، حکمت اور روحانی یاد دہانی کا زندہ مرکز ہے۔ 753 برس سے زائد عرصے سے یہ سرزمین ایک ایسا آفاقی پیغام اٹھائے ہوئے ہے جو سرحدوں، زبانوں، مذاہب اور تہذیبوں سے ماورا ہے۔
تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ قونیہ صرف ایک روحانی مرکز ہی نہیں رہا بلکہ ایک ریاست اور عظیم تہذیب کا دارالحکومت بھی رہا ہے۔ سلجوقی حکمرانوں کے دور میں دو سو برس سے زائد عرصے تک قونیہ سلطنتِ روم کا دارالحکومت رہا، جہاں سے اناطولیہ میں قانون، علم، فنِ تعمیر اور ثقافت نے تشکیل پائی۔ یہی مضبوط بنیاد بعد ازاں چھ سو برس سے زیادہ قائم رہنے والی عثمانی تہذیب میں ڈھل گئی، جس نے عدل اور نظم کا پیغام تین براعظموں تک پہنچایا۔
مگر سلاطین، سلطنتوں اور افواج سے بالاتر ایک حقیقت ہمیشہ قائم رہی:مولانا رومی صدیوں سے انسانیت کے روحانی رہنما کی حیثیت سے زندہ ہیں۔
شمسِ تبریزؒ‘ الٰہی ملاقات اور روحانی انقلاب‘ مولانا رومیؒ کے اس بلند روحانی مقام کو سمجھنے کے لیے حضرت شمسِ تبریزؒ کا ذکر ناگزیر ہے۔ یہ ملاقات عام ملاقات نہ تھی بلکہ الٰہی ارادے سے دو روحوں کا ملاپ تھا۔ شمسؒ نے مولانا کے علمی سرمایہ کو عشق کی آگ میں پگھلا دیا اور انہیں درسگاہ اور منبر کی حدود سے نکال کر عشقِ الہی کے وسیع آفاق تک پہنچا دیا۔شمس نے مولانا کو یہ حقیقت سکھائی:علم جب تک عشق نہ بنے، پردہ رہتا ہے؛اور جب عشق بن جائے تو حقیقت بن جاتا ہے۔اسی لیے شمس کے بعد مولانا رومیؒ صرف ایک عالم نہ رہے بلکہ انسانیت کے معلمِ محبت بن گئے۔
قونیہ سے مولانا رومی نے انسانیت کو وہ پیغام دیا جس کی آج بھی دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے:محبت خوف سے زیادہ طاقتور ہے، رحمت طاقت سے بلند ہے، اور وحدت تفرقے سے افضل ہے۔قونیہ غلبے کی زبان نہیں بولتا۔قونیہ دل کی زبان بولتا ہے۔یہاں علم، رحمت میں ڈھل گیا۔یہاں قانون، عدل سے سنورا۔یہاں ایمان نے پوری انسانیت کو گلے لگا لیا۔
سبز گنبد عشق کی علامت‘ قونیہ آنے والا ہر زائر سب سے پہلے مولانا رومیؒ کے مزار کے شاندار اور منفرد سبز گنبد کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ یہ گنبد سلجوقی سلطان علائوالدین کیقباد نے تعمیر کروایا، جو آج نہ صرف قونیہ بلکہ پوری دنیا میں محبت اور عشقِ رومی کی پہچان بن چکا ہے۔
اسی طرح درویشوں کی لمبی ٹوپی (سِکہ) نفس کی موت اور روح کی بقا کی علامت ہے، جبکہ درویشوں کا سفید لباس پاکیزگی، تسلیم اور روحانی تطہیر کی نشانی ہے۔ یہ علامتیں خاموشی سے دلوں سے بات کرتی ہیں۔
ہر سال 17 دسمبر کو دنیا قونیہ میں جمع ہوتی ہے۔ یہ اجتماع مولانا رومیؒ کے شروع کیے گئے محبت اور امن کے مشن کو انسانیت کے سامنے تازہ کرتا ہے۔ یہ مقدس رات شبِ عرس(وصال کی رات) کہلاتی ہے جو جدائی نہیں بلکہ محبوبِ حقیقی سے ملاقات کا جشن ہے۔753 برس سے بلا تعطل، ہر سال 7 تا 17 دسمبر قونیہ دنیا بھر سے آنے والے عوام، اعلی سرکاری حکام، سفارت کاروں، علما، معزز شخصیات، شعرا، ادبا، دانشوروں اور اہلِ دل کی میزبانی کرتا آ رہا ہے۔یہ بے مثال روحانی تسلسل حکومتِ ترکیہ بالخصوص وزارتِ ثقافت و سیاحت اور قونیہ میں اس سے منسلک اداروں کی انتھک محنت اور خلوص کا نتیجہ ہے۔
شبِ عرس کی تقریبات جس وقار، گہرائی، اخلاص اور اعلیٰ تہذیبی شعور کے ساتھ منعقد ہوتی ہیں، قونیہ سے رخصت ہونے والا ہر فرد ترکیہ کے لیے دل سے شکر اور قدر دانی محسوس کرتا ہے۔ذاتی تشکر اور قدردانی اس موقع پر میں ذاتی طور پر دلی تشکر کے ساتھ:محترم وزیر سعید نوری،ان کی معزز ٹیم، بالخصوص محترمہ پنار چاوش اوغلو(وزارتِ ثقافت و سیاحت، انقرہ)،محترم اردوان اردوغموش (ڈپٹی ڈائریکٹر، وزارتِ ثقافت و سیاحت)،ان کی معاونہ محترمہ دیگو،اور قونیہ میں خدمات انجام دینے والے تمام عملے کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں،جنہوں نے اس عظیم روحانی ورثے کو انسانیت کے لیے نہایت وقار، نظم اور اخلاص کے ساتھ زندہ رکھا ہوا ہے۔رومی کا زندہ ورثہ نسل در نسل خصوصی طور پر مولانا انٹرنیشنل سینٹر اور قونیہ میں مقیم مولانا رومی کی 22ویں نسل کے نمائندے اس عظیم امانت کے امین ہیں، جو صدیوں سے اس مشن کو وفاداری کے ساتھ سنبھالے ہوئے ہیں۔
آج اس ورثے کی نمائندگی محترمہ اسین چلبی کر رہی ہیں، جو مولانا رومی کی نسل سے تعلق رکھتی ہیں اور اس ذمہ داری کو وقار، حکمت اور شعور کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہیں۔ترکیہ اس امانت کے ذریعے صرف اپنی تاریخ کی حفاظت نہیں کر رہا بلکہ انسانیت کے لیے ایک زندہ روحانی میراث کو مستقبل تک منتقل کر رہا ہے۔قونیہ سے اٹھنے والا پیغام بالکل واضح ہے نرم مگر طاقتور، قدیم مگر آج کے لیے نہایت ضروری:ہتھیار بولنے سے پہلے دل آپس میں جڑ جائیں۔جہاں خوف ناکام ہو جائے، وہاں محبت رہنمائی کرے۔انسانیت یاد رکھے: ہم سب ایک خاندان ہیں۔قونیہ صرف مولانا رومی کا شہر نہیں۔قونیہ انسانیت کا ضمیر ہے اور اس کا پیغام ہمیشہ کے لیے ہے‘آگے بڑھنے کا راستہ محبت ہے۔