سانحہ خضدار چراغ علم کو بجھانے کی دلخراش واردات
21 مئی 2025ء کو بلوچستان کے مرکزی شہر خضدار میں ہونے والا دہشت گرد حملہ نہ صرف ایک دلخراش انسانی سانحہ تھا بلکہ یہ پاکستان کی ریاستی رٹ، قومی غیرت، اور علاقائی استحکام کے خلاف ایک چیلنج بھی بن کر
21 مئی 2025ء کو بلوچستان کے مرکزی شہر خضدار میں ہونے والا دہشت گرد حملہ نہ صرف ایک دلخراش انسانی سانحہ تھا بلکہ یہ پاکستان کی ریاستی رٹ، قومی غیرت، اور علاقائی استحکام کے خلاف ایک چیلنج بھی بن کر
بعض لوگ پیدائشی خوش نصیب ہوتے ہیں، اور بعض اپنی صلاحیت، محنت اور استقامت سے قسمت کو اپنے حق میں کر لیتے ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جن کے بارے میں کہا جا
گزشتہ صدی نے انسانیت کو ایک تلخ اور خونی سبق دیا۔ دو عالمی جنگوں، لاتعداد علاقائی تنازعات، اور نظریاتی تصادمات نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یورپ، جو تہذیب و تمدن کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا، میدانِ جنگ
پہلگام کا واقعہ بجلی کی مانند خبروں کی دنیا میں پھیل گیا ہے۔ اس حادثے کے اثرات جنگل کی آگ کی طرح ہر سو سرایت کر رہے ہیں۔ فضا میں بے یقینی کا دھواں گہرا ہوتا جا رہا ہے اور
تمہاری چالاکیاں، سازشیں اور مکاری اب بے نقاب ہو چکی ہیں۔ پہلگام کا حالیہ ڈرامہ تمہاری اسی گھسی پٹی روش کا نیا روپ ہے۔ اصل نشانہ سندھ طاس معاہدہ تھا، جسے تم نے واقعے کے فوراً بعد معطل کرنے کی
سوشل میڈیا بھی ایک سمندر ہے، جس کی تہوں میں پوری کائنات کی معلومات چھپی ہوئی ہیں۔ اس کی سطح پر تیرتی خبروں، علمی و ادبی پوسٹوں اور مزاحیہ خاکوں کی بے شمار اقسام ہیں۔ جب کوئی ایک بار اس
ہر چیز کے انتخاب کا ایک معیار ہوتا ہے، کامیابی اور ناکامی کو ناپنے کا ایک پیمانہ مقرر ہوتا ہے، اور کوالٹی اور کارکردگی جانچنے کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ کسی بھی شعبہ زندگی میں بہتری اور ترقی کے لیے
جب سے ٹرمپ نے امریکی صدارت سنبھالی ہے دنیا حیرت انگیز تبدیلیوں سے گزر رہی ہے ۔ حلیف و حریف کی پرواہ کئے بغیر وہ نئی نئی پالیسیوں کا دھڑا دھڑ اعلان کئے جا رہا ہے ۔ کسی قریبی اتحادی
پاکستان کی سرزمین بے شمار باصلاحیت افراد کی جنم بھومی رہی ہے، لیکن کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جو اپنی خداداد صلاحیتوں اور انتھک محنت کے باعث نہ صرف اپنی پہچان بناتی ہیں بلکہ ملک و ملت کا وقار بھی
پاکستان کی سرزمین ایک بار پھر خون میں نہا گئی، معصوم مسافروں کی چیخیں خاموشی میں دفن ہو گئیں، اور دہشت گردی کا ایک اور بدنما داغ ہماری تاریخ کا حصہ بن گیا۔ سانحہ بولان ایک ایسا المیہ ہے جس