مکار دشمن کی چالیں، کشمیریوں کے حوصلے اور امن کی پکار
پہلگام کا واقعہ بجلی کی مانند خبروں کی دنیا میں پھیل گیا ہے۔ اس حادثے کے اثرات جنگل کی آگ کی طرح ہر سو سرایت کر رہے ہیں۔ فضا میں بے یقینی کا دھواں گہرا ہوتا جا رہا ہے اور
پہلگام کا واقعہ بجلی کی مانند خبروں کی دنیا میں پھیل گیا ہے۔ اس حادثے کے اثرات جنگل کی آگ کی طرح ہر سو سرایت کر رہے ہیں۔ فضا میں بے یقینی کا دھواں گہرا ہوتا جا رہا ہے اور
تمہاری چالاکیاں، سازشیں اور مکاری اب بے نقاب ہو چکی ہیں۔ پہلگام کا حالیہ ڈرامہ تمہاری اسی گھسی پٹی روش کا نیا روپ ہے۔ اصل نشانہ سندھ طاس معاہدہ تھا، جسے تم نے واقعے کے فوراً بعد معطل کرنے کی
سوشل میڈیا بھی ایک سمندر ہے، جس کی تہوں میں پوری کائنات کی معلومات چھپی ہوئی ہیں۔ اس کی سطح پر تیرتی خبروں، علمی و ادبی پوسٹوں اور مزاحیہ خاکوں کی بے شمار اقسام ہیں۔ جب کوئی ایک بار اس
ہر چیز کے انتخاب کا ایک معیار ہوتا ہے، کامیابی اور ناکامی کو ناپنے کا ایک پیمانہ مقرر ہوتا ہے، اور کوالٹی اور کارکردگی جانچنے کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ کسی بھی شعبہ زندگی میں بہتری اور ترقی کے لیے
جب سے ٹرمپ نے امریکی صدارت سنبھالی ہے دنیا حیرت انگیز تبدیلیوں سے گزر رہی ہے ۔ حلیف و حریف کی پرواہ کئے بغیر وہ نئی نئی پالیسیوں کا دھڑا دھڑ اعلان کئے جا رہا ہے ۔ کسی قریبی اتحادی
پاکستان کی سرزمین بے شمار باصلاحیت افراد کی جنم بھومی رہی ہے، لیکن کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جو اپنی خداداد صلاحیتوں اور انتھک محنت کے باعث نہ صرف اپنی پہچان بناتی ہیں بلکہ ملک و ملت کا وقار بھی
پاکستان کی سرزمین ایک بار پھر خون میں نہا گئی، معصوم مسافروں کی چیخیں خاموشی میں دفن ہو گئیں، اور دہشت گردی کا ایک اور بدنما داغ ہماری تاریخ کا حصہ بن گیا۔ سانحہ بولان ایک ایسا المیہ ہے جس
مذہب، تہذیب، تمدن اور ثقافت کسی بھی معاشرے کے بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ انہی کی کوکھ سے روایات، اقدار اور رسومات جنم لیتی ہیں، جو فرد کے انفرادی اور اجتماعی رویوں کی صورت میں ڈھلتی ہیں۔ یہ وہ رنگ ہیں
تین دہائیاں قبل ’’ڈنکی‘‘محض ایک جانور کا انگریزی نام سمجھا جاتا تھا ۔ پھر اچانک یہ لفظ کسی پر اسرار مہم کے لئے استعمال ہونے لگا ۔ جوں جوں اس نے زور پکڑا تو ہر خاص و عام کو اس
ماضی آئینہ کی طرح ہوتا ہے ۔ جس میں جھانک کر قومی حلیہ سلجھایا جاتا ہے ۔ تاریخی نشانات ، حیرت انگیز فن تعمیر ، تہذیبوں کے آثار اچھے یا برے ماضی کے عکاس ہوتے ہیں ۔ مہذب قومیں اپنی