لاہور(نیوز ڈیسک)دریائے راوی ان دنوں سیلابی ریلوں کی زد میں ہے۔ پانی کا شور، ڈوبنے کا خوف اور کناروں پر بسنے والوں کی آزمائشیں ہر روز نئی داستانیں جنم دے رہی ہیں۔ مگر انہی لمحات میں ایک ایسا واقعہ بھی پیش آیا جس نے سب کو حیران کر دیا۔ یہ کہانی کسی انسان کی نہیں بلکہ ایک بھینس کی ہے، جس کی پہچان صرف ایک نام لینے سے ثابت ہوئی۔
سیلاب میں جان بچانے کی دوڑ
سول ڈیفنس کے اہلکار محمد اکمل، جو سگیاں پل کے قریب ٹیم کی نگرانی کر رہے ہیں، فخر سے کہتے ہیں کہ “ہمارے لیے سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ راوی میں اب تک کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ جو بھی پانی میں پھنس گیا، ہم نے ریسکیو کیا۔”
ان کے مطابق انسانوں کے ساتھ ساتھ کئی جانور بھی بچائے گئے۔ کتوں، بلیوں اور بھینسوں کو پانی کے تیز بہاؤ سے نکال کر محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا۔
ایک بھینس، کئی دعویدار
گزشتہ دنوں اہلکاروں کو سگیاں پل کے قریب پانی میں ایک بھینس تیرتی ہوئی دکھائی دی۔ محنت کے بعد اسے کنارے پر لایا گیا، مگر اصل امتحان تب شروع ہوا جب یہ بھینس خشکی پر پہنچی۔
ابھی اہلکار سکون کا سانس ہی لے رہے تھے کہ گاؤں کے لوگوں میں شور مچ گیا۔ ہر طرف سے آوازیں آنے لگیں۔” یہ میری بھینس ہے!””نہیں، یہ میری ہے!”
محمد اکمل ہنستے ہوئے یاد کرتے ہیں کہ”ایک بھینس تھی اور دعویدار کئی۔ ایک شخص نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر یہ اس کی بھینس نہ نکلی تو وہ ہمیں ایسی دس بھینسیں دینے کو تیار ہے۔”
بھلی کہنے پر پلٹنے والی بھینس
اہلکار فیصلہ کرنے میں مشکل کا شکار تھے کہ آخر بھینس کس کی ہے۔ اسی دوران ایک شخص آگے بڑھا اور دعویٰ کیا کہ وہ برسوں سے اس بھینس کو پال رہا ہے اور اس نے اس کا نام “بھلی” رکھا ہوا ہے۔
اس نے کہا کہ”اگر میں اسے بھلی کہہ کر پکاروں گا تو یہ فوراً میری طرف دیکھے گی اور آواز نکالے گی۔”

سب کی نظریں اس منظر پر جم گئیں۔ جیسے ہی اس شخص نے پیار سے “بھلی” کہا، بھینس نے فوراً گردن گھمائی، اس کی طرف دیکھا اور زور سے آواز نکالی۔
یہ لمحہ ایسا تھا جیسے فلم کا کوئی سین ہو۔ وہاں موجود لوگ تالیاں بجانے لگے، اور اہلکاروں کے چہروں پر بھی مسکراہٹ دوڑ گئی۔
صرف نام پر فیصلہ نہیں
البتہ سول ڈیفنس نے محض آواز پر فیصلہ نہیں کیا۔ محمد اکمل کے مطابق “ہم نے مکمل تصدیق کی۔ آس پاس کے لوگوں سے پوچھا، شواہد اکٹھے کیے۔ جب اطمینان ہو گیا کہ یہی اصل مالک ہے، تب بھینس اسے سونپ دی گئی۔”
سول ڈیفنس کی قربانیاں

محمد اکمل بتاتے ہیں کہ ان کی ٹیم دن رات مسلسل ڈیوٹی پر ہے۔ کئی اہلکار اپنے گھروں کو نہیں گئے تاکہ کسی جان یا جانور کو نقصان نہ پہنچے۔
“ہمارا کام صرف جان بچانا نہیں بلکہ لوگوں کے چہروں پر سکون لانا ہے۔ جب بھلی اپنے مالک کے پاس لوٹی اور اس کے چہرے پر خوشی دیکھی تو ہمیں لگا جیسے ہماری محنت رنگ لے آئی ہو۔”
بھینس کی کہانی، انسان اور جانور کا رشتہ
یہ واقعہ صرف ایک بھینس کا ریسکیو نہیں، بلکہ اس تعلق کی علامت ہے جو انسان اور جانور کے درمیان قائم ہو سکتا ہے۔ ایک نام، ایک آواز، اور برسوں کی مانوسیت نے اس رشتے کو ثابت کر دیا۔
دریائے راوی کے کنارے پیش آنے والا یہ واقعہ یہ بھی دکھاتا ہے کہ سیلاب جیسے کٹھن وقت میں انسانیت صرف انسانوں تک محدود نہیں رہتی۔ اصل خدمت یہ ہے کہ ہر جاندار کی جان قیمتی سمجھی جائے۔
مزیدپڑھیں:زلزلے سے تباہی، پاکستان نے105 ٹن امدادی سامان افغانستان بھجوا دیا
