منیلا(نیوز ڈیسک)فلپائن کی چمکتی دمکتی سڑکوں کے پیچھے چھپی ایک ایسی تاریک دنیا کا پردہ فاش ہوا ہے جو کہ انسانیت شرمسار کردینے والا ہے۔ یہاں نہ صرف سڑک کنارے کھانے پینے کی اشیاء فروخت ہوتی ہیں بلکہ نوجوان لڑکیوں بھی ’’بیویوں‘‘ کے طور پر نیلام کیا جاتا ہے۔ ایک وائرل ویڈیو نے اس حقیقت کو آشکار کیا ہے۔
انسٹاگرام اکاؤنٹ “Taboo_Arab_tv” کے ذریعے شیئر کی گئی اس ویڈیو میں ایک عرب شخص سڑک پر کھڑی ایک 21 سالہ فلپائنی لڑکی کو خریدتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ لڑکی کی ماں خود اپنی بیٹی کے لیے بولی لگاتی ہے اور پیسے آن لائن وصول کرتی ہے۔ یہ سودا صرف ایک ہزار ڈالر یا تقریباً 88 ہزار بھارتی روپے میں مکمل ہوا۔ ویڈیو میں یہ شخص رقم وصول کرنے کے بعد لڑکی کو امریکہ لے جانے کا وعدہ کرتا نظر آرہا ہے۔
حقیقت یا فسانہ؟
ویڈیو میں یہ شخص خود کیمرے پر دعویٰ کرتا ہے کہ یہ فلپائن ہے جہاں ایک ہزار ڈالر میں بیوی مل سکتی ہے۔ اس کے بعد وہ ایک عورت کو آن لائن ٹرانسفر کرتا ہے اور پھر اس کی بیٹی سے شادی کرنے کی بات کرتا ہے۔ آدمی کا دعویٰ ہے کہ یہ کوئی مذاق نہیں بلکہ اصلی زندگی ہے۔ وہ سڑک کے کنارے ایک جھونپڑی کے پاس رکتا ہے جہاں ایک ماں اور بیٹی انتظار کر رہی ہیں۔ ماں لڑکی کو ایسے کپڑے پہنا رہی ہے جیسے کوئی سامان تیار کر رہی ہو۔ آدمی لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر چلا جاتا ہے، جب کہ اس کے پیچھے ماں مسکراتی ہوئی نظر آتی ہے۔ تاہم، ویڈیو دیکھنے کے بعد، بہت سے لوگوں کو اب بھی یقین ہے کہ یہ سب اسکرپٹڈ ہے۔
حیران رہ گئے لوگ
یہ منظر اتنا خوفناک ہے کہ دیکھنے والوں کی روح کانپ گئی ۔ فلپائن، جو اپنے خوبصورت ساحلوں، مہمان نوازی اور کیتھولک ثقافت کے لیے جانا جاتا ہے، انسانی اسمگلنگ کے اس تاریک باب سے دوچار ہے۔ آدمی کا دعویٰ ہے کہ یہ رواج یہاں عام ہے، خاص طور پر غریب علاقوں میں۔ منیلا کی کچی آبادیوں سے لے کر صوبائی قصبوں تک، مالی مشکلات کا سامنا کرنے والے خاندان اپنی بیٹیوں کو “بیچ” دیتے ہیں۔ مائیں خود بولی لگاتی ہیں، کیونکہ تعلیم اور ملازمت کے مواقع کم ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق فلپائن میں ہر سال ہزاروں لڑکیوں کو غیر ملکی سیاحوں یا دولت مند افراد کو فروخت کیا جاتا ہے۔ یہ “میل آرڈر برائیڈ” کے نظام کا ایک ایکسٹریم ورژن ہے، جہاں سڑکیں خود بازار بن جاتی ہیں۔ لیکن کیا یہ ویڈیو اصلی ہے؟ جب کہ سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے.
11 مزیدپڑھیں:لاکھ زیر التوا نمبر پلیٹس کےاجراءکیلئے کنٹریکٹ جاری
