اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت نے دیرینہ مطالبہ پورا کر دیا اور غیر سرکاری اداروں کے مزدوروں کی پینشن میں اضافہ کر دیا۔ یکم ستمبر سے 10 ارب روپے پینشن اور بقایا جات مزدوروں میں تقسیم کئے جائیں گے۔
ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ ای او بی آئی کی پنشن میں اضافہ کر کے کم از کم پنشن 11,500 روپے کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں طویل عرصہ خدمات انجام دینے والے پنشنرز اب 30,000 روپے ماہانہ سے زائد پنشن بھی حاصل کر سکیں گے۔ ای او بی آئی میں رجسٹرڈ تمام پینشنر مزدوروں کو کل یکم ستمبر سے بقایا جات سمیت ادائیگی کی جا رہی ہے۔ پانچ لاکھ پینشن یافتہ مزدوروں کو ادائیگیاں کی جائیں گی۔
وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی و ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ، چوہدری سالک حسین نے اعلان کیا ہے کہ مزدوروں کے بڑھاپے کے فوائد کے ادارے (ای او بی آئی) کے تقریباً پانچ لاکھ پنشنرز کو ان کی بڑھائی گئی پنشن بمعہ بقایاجات یکم ستمبر 2025 کو ادا کی جائے گی۔
وفاقی کابینہ کی منظوری
وفاقی کابینہ نے ای او بی آئی پنشن میں اضافہ کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت کم از کم پنشن 10,000 روپے سے بڑھا کر 11,500 روپے ماہانہ کر دی گئی ہے۔ جبکہ فارمولا پر مبنی پنشن میں 15 فیصد اضافہ بھی شامل ہے، جو یکم جنوری 2025 سے لاگو ہوگا۔ ان پینشنرز کو گزشتہ آٹھ ماہ کے بقایاجات بھی ملیں گے۔
اس فیصلے کے نتیجے میں طویل عرصہ خدمات انجام دینے والے پنشنرز اب 30,000 روپے ماہانہ سے زائد پنشن بھی حاصل کر سکیں گے۔
وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے بتایا کہ ای او بی آئی کے دائرہ کار کو وسیع کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے وفاقی کابینہ نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو غیر رسمی، گھریلو اور زرعی شعبے کے کارکنوں کو ای او بی آئی کی پنشن کی سہولت میں شامل کرنے کے لیے سفارشات تیار کر کے پیش کرے گی۔
حکومت کے عزم کو دہراتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ محنت کش طبقے کی فلاح و سماجی تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، آئین پاکستان کے آرٹیکل 38(سی) کے مطابق ریاست پر لازم ہے کہ وہ تمام شہریوں کو سماجی تحفظ فراہم کرے
مزیدپڑھیں:”حماس کی نمایاں شخصیت کو نشانہ بنایا ہے“ اسرائیلی فوج کا ابوعبیدہ کو مارنے کا اشارہ


