Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ شہید

تل ابیب(انٹرنیشنل ڈیسک)اسرائیلی فوج کے ترجمان نے غزہ میں حماس کی ایک نمایاں شخصیت کو نشانہ بنانے کا اعلان کردیا۔ صہیونی فوج کے ترجمان اویچائی ادرائی نے پلیٹ فارم ’’ ایکس‘‘ پر لکھا کہ فوج نے ایک طیارے کے ذریعے غزہ سٹی کے شمالی علاقے میں حماس کے ایک مرکزی رہنما پر حملہ کیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی ذرائع نے القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ کی شہادت کی تصدیق کردی۔

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے ایک فلیٹ کو نشانہ بنایا جس میں ابو عبیدہ موجود تھے، اور اس فضائی حملے میں اپارٹمنٹ میں موجود تمام افراد شہید ہو گئے، فلسطینی ذریعے نے مزید کہا کہ ابو عبیدہ کے اہلِ خانہ اور القسام قیادت نے لاش کی شناخت کے بعد ان کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے۔


اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ غزہ میں جس شخص کو نشانہ بنایا گیا وہ حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کے ترجمان “ابو عبیدہ” ہیں اور ان کے قتل کی کارروائی کے 95 فیصد کامیاب ہونے کا اندازہ ہے۔ اسرائیل کے ’’ چینل 12 ‘‘ نے بھی کہا کہ ان کے ٹھکانے کے بارے میں ابتدائی معلومات گزشتہ شام موصول ہوئی تھیں اور ساڑھے پانچ بجے حملہ کیا گیا۔ چینل نے ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ابو عبیدہ نشانہ بننے والی عمارت میں تھے تو اس بار ان کی بچنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
ایک اسرائیلی نشریاتی ادارے نے کہا ہے کہ اگر “ابو عبیدہ” کی ہلاکت کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ بہت اہمیت کا حامل ہوگا۔ ابھی تک اس حملے کے نتائج کا انتظار ہے۔ فلسطینی تنظیم کے ترجمان کی موت کے بارے میں غیر یقینی کی صورت حال برقرار ہے۔ نشریاتی ادارے نے وضاحت کی کہ غزہ سٹی کے مغربی علاقے میں الرمال محلے میں ایک رہائشی عمارت پر حملے کا مقصد القسام کے عسکری ترجمان ابو عبیدہ کا قتل تھا۔ دوسری طرف حماس نے ابھی تک اپنے عسکری ونگ کے ترجمان کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

الرمال کالونی میں دو رہائشی فلیٹس
اسرائیلی فوج نے غزہ شہر پر الرمال کالونی میں دو رہائشی فلیٹس کو نشانہ بناتے ہوئے کئی حملے کیے۔ ان حملوں میں 20 فلسطینی جاں بحق اور دیگر زخمی ہو گئے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ الرمال کالونی اور شہر کے مغرب میں شاطی کیمپ میں پناہ گزینوں کے خیموں پر بھی حملے کیے گئےجن میں کم از کم 5 فلسطینی جاں بحق اور دیگر زخمی ہوئے۔ اسرائیلی حملے اور توپخانے کی کارروائیاں شہر کے مشرقی علاقوں پر جاری ہیں۔ غزہ کے وسط اور جنوبی حصے کو بھی اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ ہفتے کے روز سے اسرائیلی حملوں میں 60 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔


غزہ میں جنگ حماس کی طرف سے 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر کیے گئے حملے کے بعد شروع ہوئی۔ حماس کے اس حملے میں 1219 اسرائیلی ہلاک ہوگئے تھے۔ حماس نے اس دوران 251 اسرائیلیوں کو یرغمال بنا لیا تھا جن میں سے 47 اب بھی غزہ میں ہیں۔ ان 47 میں سے تقریباً 20 یرغمالی زندہ ہیں۔ سات اکتوبر کو ہی اسرائیل نے ایک تباہ کن جنگ کا آغاز کردیا تھا۔ غزہ کی پٹی عمارتوں کو ملیامیٹ کردیا ہے۔ تاریخ کی بدترین غارت گری میں اب تک 63 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو جاں بحق کردیا گیا ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں اکثر عام شہری ہیں۔
مزیدپڑھیں:اسرائیل کی یمن پر بمباری، حوثیوں کے وزیراعظم سمیت 12 وزراشہید

یہ بھی پڑھیں