Search
Close this search box.
اتوار ,05 جولائی ,2026ء

جیل میں عمران خان کو تمام قانونی سہولیات ملنی چاہئیں، شہلا رضا

اسلام آباد (اے بی این نیوز)  پاکستان میں حالیہ دہشت گردی، سیلابی تباہ کاریوں، حکومتی نااہلی اور جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ سلوک جیسے اہم قومی موضوعات پر اے بی این نیوز کے پروگرام ’’ڈیبیٹ 8‘‘ میں گرما گرم بحث دیکھنے کو ملی۔ پروگرام میں پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما امجد علی نیازی اور سینئر تجزیہ کار حماد حسن شریک ہوئے۔

دہشت گردی کے واقعات پر تشویش

شہلا رضا نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے حالیہ دہشت گرد حملوں میں 12 فوجی جوانوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا، کیونکہ یہ واقعات صرف سیکیورٹی فورسز پر حملہ نہیں بلکہ ملک کے امن پر حملہ ہیں۔

امجد علی نیازی نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور سابق قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے اثرات ایک بار پھر بڑھ رہے ہیں، اور اب یہ لہر اسلام آباد کے مضافاتی علاقوں تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ صوابی کے علاقے گدون میں نماز جمعہ کے دوران چند مشتبہ شدت پسندوں نے جہاد کے نام پر تقاریر اور چندہ جمع کرنے کی سرگرمیاں کیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کہاں ہیں؟

حماد حسن نے کہا کہ 2001 سے اب تک بنائی جانے والی ریاستی پالیسیاں مکمل طور پر ناکام رہی ہیں۔ “آپریشن راہ نجات” اور “نیشنل ایکشن پلان” جیسے اقدامات وقتی کامیابی تو لائے لیکن دیرپا امن قائم نہ ہو سکا۔ ان کے مطابق اگر دہشت گردوں کی دوبارہ دراندازی ہو رہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ سرحدی نگرانی میں شدید خامیاں موجود ہیں۔

سیلابی تباہ کاریاں اور حکومتی کارکردگی

پنجاب اور خیبرپختونخوا میں حالیہ سیلابی تباہ کاریوں پر گفتگو کرتے ہوئے شہلا رضا نے کہا کہ این ڈی ایم اے نے خود تسلیم کیا کہ پانی کا دباؤ توقعات سے کہیں زیادہ تھا۔ تاہم انہوں نے پنجاب حکومت کی انتظامی نااہلی اور وسائل کی کمی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب کے کئی متاثرہ علاقوں میں نہ راشن، نہ کشتیوں اور نہ ہی شیلٹرز کی سہولت موجود ہے۔

امجد علی نیازی نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کے متاثرہ علاقوں کو این ڈی ایم اے نے مکمل طور پر نظرانداز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اراکین کو متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں کرنے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ ان پر ایف آئی آرز درج کی گئیں۔

حماد حسن نے کہا کہ پاکستان میں فلڈ مینجمنٹ کے لیے واضح اور مربوط منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ “دنیا نے پیرس اور جنیوا کانفرنسز میں پاکستان کو اربوں ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ہم تیاری نہ ہونے کے باعث اس موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔” ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی غفلت اور سیاسی مداخلت نے فلڈ کنٹرول سسٹم کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے۔

جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے ساتھ سلوک

پروگرام کے دوران سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے جیل میں حالات پر بھی بات ہوئی۔ شہلا رضا نے کہا کہ جیل مینوئل کے مطابق جو بنیادی سہولتیں کسی قیدی کو دینی لازمی ہیں، وہ سابق وزیراعظم کو بھی ملنی چاہئیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض اوقات تحریک انصاف کے رہنما سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے حقائق کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے ان کی بہن علیمہ خان نے حال ہی میں بیان دیا تھا کہ وہ بالکل صحت مند ہیں۔ “اگر وہ سابق وزیراعظم رہ چکے ہیں تو انہیں وہ تمام سہولیات دی جانی چاہئیں جو قانون کے تحت کسی بھی سابق سربراہ حکومت کو دی جاتی ہیں، لیکن اس معاملے کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔”

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نئی پالیسی کی ضرورت

حماد حسن نے زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف نئی قومی پالیسی تشکیل دے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کی واپسی، سرحدوں کی مکمل نگرانی اور داخلی سیکیورٹی اداروں کی استعداد کار میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ “اگر سرحد پر باڑ لگ چکی ہے تو پھر یہ شدت پسند پاکستان میں دوبارہ کیسے داخل ہو رہے ہیں؟ یہ سوال حکومت کو جواب دینا ہوگا۔”

اتفاق رائے کی کمی سب سے بڑا مسئلہ

پروگرام کے اختتام پر میزبان قمر زیدی نے کہا کہ دہشت گردی، سیلاب، مہنگائی اور بدامنی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صرف فوجی آپریشن کافی نہیں، بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک صفحے پر لانے کی ضرورت ہے۔

شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اگر قومی سطح پر اتحاد اور جامع پالیسی نہ اپنائی گئی تو دہشت گردی دوبارہ پورے ملک کو لپیٹ میں لے سکتی ہے اور سیلاب جیسی آفات کا مقابلہ بھی ممکن نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں