30 جون کی شدید گرمی کے باوجود جناح کنونشن سنٹر کا ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ عالمی شہرت کے حامل مہمان مقررین اور وفاقی وزراء سمیت کسان، وکیل، انجینئر، طالب علم اور سفارت کار سب ایک ہی سوال کے جواب کے لیے جمع تھے۔ کیا 1960ء کا سندھ طاس معاہدہ آج بھی خطے میں امن کی ضمانت ہے، یا بھارت کے شرانگیز یکطرفہ اقدامات نے اسے کمزور کر دیا ہے؟ وزارتِ اطلاعات و نشریات اور مقامی تھنک ٹینک کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار نے اس پیچیدہ مسئلے کے بہت سے حساس پہلو اجاگر کئے۔ چھ گھنٹے کی گفتگو کے بعد جو بات واضح ہوئی وہ یہ ہے کہ معاہدہ اب صرف قانونی دستاویز نہیں رہا، یہ پاکستان کی قومی سلامتی، زراعت اور معیشت کی بقا کو لاحق خطرات کے حوالے سے اہم سوال بن چکا ہے۔ پہلگام حملے کے بعد بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کا فیصلہ نہ صرف بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک خطرناک نظیر بھی قائم کرتا ہے۔ 1960ء کا یہ معاہدہ جنگوں، سیاسی اتار چڑھا اور تین بڑی جنگوں کے باوجود قائم رہا کیونکہ اس کی بنیاد ’’پانی کو سیاست سے الگ رکھنے‘‘ کے اصول پر تھی۔ بھارت کا یہ اقدام اس اصول کو توڑ کر پانی کو جنگی ہتھیار میں بدلنے کے مترادف ہے، جسے عالمی برادری میں ’’آبی دہشت گردی‘‘سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ یکطرفہ معطلی سے نہ صرف پاکستان کے 22کروڑ عوام کے زرعی اور معاشی حقوق متاثر ہوں گے بلکہ اس سے جنوبی ایشیا ء میں اعتماد کا وہ آخری پل بھی گر جائے گا جو دو ایٹمی ریاستوں کو براہِ راست تصادم سے روکے ہوئے تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ معاہدے کو معطل کر کے بھارت نے دراصل اپنے ہی دستخط شدہ بین الاقوامی معاہدے کی ساکھ مجروح کی ہے، ثالثی اور نیوٹرل ایکسپرٹ جیسے قانونی فورمز کو بے معنی کر دیا ہے، اور مستقبل میں کسی بھی دو طرفہ معاہدے پر بھروسے کا دروازہ بند کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اگر واپس نہ لیا گیا تو اس کے مضمرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ دنیا بھر میں سرحد پار دریاں کے اشتراک کے اصول ہی خطرے میں پڑ جائیں گے۔یہ نشاندہی بھی کی گئی کہ بھارت نے کِشن گنگا جیسے متنازعہ منصوبوں میں پانی کے بہا کو متاثر کرنے والی تکنیک استعمال کی ہے۔ مون سون میں اچانک پانی چھوڑنا اور خشک موسم میں بہا کم کرنا ایک جنگی حکمت عملی بن چکی ہے جس کا مقصد پاکستان میں زرعی بحران پیدا کرنا ہے۔ کسانوں کا موقف یہ ہے کہ ’’ہمارے لئے سندھ طاس معاہدہ فائل نہیں ہے۔ یہ ہماری روٹی ہے۔ جب نہر میں پانی کم ہوتا ہے تو فصل سوکھتی ہے اور قرض بڑھتا ہے۔ یہی آبی دہشت گردی ہے۔‘‘ عالمی قانون کے ماہر احمر بلال صوفی نے کہا کہ قانون ہماری ڈھال ہے۔ نیز سندھ طاس معاہدہ دنیا کے چند مضبوط ترین آبی معاہدوں میں سے ایک ہے کیونکہ اس میں تنازعات کے حل کے لیے تین سطحی نظام موجود ہے: مستقل کمیشن، نیوٹرل ایکسپرٹ اور ثالثی عدالت۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر معاہدے کو ’’معطل‘‘قرار دینے کی کوشیں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ ’’معاہدہ جنگ کے دوران بھی ختم نہیں ہوتا۔ بھارت اگر ڈیزائن کے معیار پورے نہیں کر رہا تو پاکستان کو ثبوت کے ساتھ نیوٹرل ایکسپرٹ کے پاس جانا چاہیے۔ شور مچانے سے بہتر ہے کہ ہم ثبوت کے ساتھ عدالت جائیں۔‘‘ صوفی صاحب نے زور دیا کہ پاکستان کو ہر منصوبے کی تکنیکی جانچ کر کے فوری طور پر اعتراضات ریکارڈ کرانے چاہئیں۔ ان کے بقول ’’قانون ہماری سب سے بڑی ڈھال ہے۔ اگر ہم اسے استعمال نہیں کریں گے تو دنیا سمجھے گی کہ ہمیں خود اپنے کیس پر بھروسہ نہیں۔‘‘ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پانی معاشی سلامتی کا مسئلہ ہے۔انہوں نے معاشی زاویے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی قلت کا براہ راست تعلق مہنگائی، زرعی پیداوار اور زرمبادلہ سے ہے۔ ’’جب ہماری گندم یا کپاس کی فصل متاثر ہوتی ہے تو ہمیں اربوں ڈالر کا اناج باہر سے منگوانا پڑتا ہے۔ یہ صرف پانی کا مسئلہ نہیں، یہ معاشی حملہ ہے۔‘‘ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے ہر شق پر عمل درآمد چاہتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بھارت کے متنازع منصوبوں پر پاکستان اپنا تکنیکی ڈوزیئر مکمل کر کے مناسب فورم پر لے جائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہمیں اندرونی طور پر بھی تیار ہونا ہوگا۔ مستقبل کا لائحہ عمل اب نئے ڈیم، زیر زمین پانی کا ضابطہ اور آبپاشی میں بچت جیسے اصولوں پر مبنی ہوگا۔انہوں نے کہا ’’ہم جنگ نہیں چاہتے۔ لیکن ہم اپنے حصے کے پانی پر سودا بھی نہیں کر سکتے۔ امن کا مطلب کمزوری نہیں ہوتا۔‘‘
چین سے آئے تزویراتی امور کے ماہر وکٹر گاو نے تقابلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں دریائی معاہدے اسی وقت کامیاب ہوتے ہیں جب فریقین بات چیت کا راستہ کھلا رکھیں۔انہوں نے بھارت کے حالیہ شر انگیز اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب کوئی ملک یکطرفہ فیصلے کرتا ہے تو وہ صرف پانی نہیں روکتا، وہ اعتماد توڑتا ہے۔‘‘ وکٹر گاو کے مطابق سندھ طاس معاہدے کی طاقت اس کے اداروں میں ہے۔ اگر پاکستان کو لگتا ہے کہ کوئی منصوبہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے تو اسے فورا مستقل کمیشن میں اٹھانا چاہیے۔انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان سیٹلائٹ ڈیٹا اور آزادانہ مانیٹرنگ کے ذریعے شواہد اکٹھے کرے تاکہ کسی بھی فورم پر اس کا موقف ناقابلِ تردید ہو۔ ’’آبی دہشت گردی کا بہترین جواب شفافیت اور قانون ہے‘‘ انہوں نے کہا۔گلیشیئر اور موسمیاتی ماہر ڈاکٹر روکسلانا نے سائنسی اعداد و شمار پیش کیے۔ انہوں نے بتایا کہ مغربی ہمالیہ کے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں جس سے دریاں کے بہا کا وقت آگے آ گیا ہے۔ ساتھ ہی مون سون کی بارشیں غیر متوقع ہو گئی ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ 2050ء تک مغربی دریاں میں قابلِ اعتماد پانی میں 15سے 20فیصد کمی آ سکتی ہے۔ ’’یہ مسئلہ صرف بھارت کا نہیں ہے۔ یہ موسمیاتی حقیقت ہے۔ لیکن اگر اوپر کوئی ذخیرہ کرے گا تو نیچے والے کے لئے بحران دوگنا ہو جائے گا۔‘‘ ڈاکٹر روکسلانا نے کہا کہ پاکستان کو اپنی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 30دن سے بڑھا کر کم از کم 90دن کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا ’’ہم معاہدے سے پانی کا حصہ مانگ سکتے ہیں، لیکن پانی پیدا نہیں کر سکتے۔ اس لیے موافقت ناگزیر ہے۔‘‘چھ گھنٹے کی عرق ریزی کے بعد درج ذیل نکات پر اتفاق ہوا۔اول ، بھارت کے خلاف ثبوت جمع کیے جائیں۔ ہر متنازع منصوبے کی ڈیزائن اور آپریشنل ڈیٹا کو ریکارڈ کیا جائے۔ دوم، معاہدے کے تحت فورم استعمال کئے جائیں۔ پہلے مستقل کمیشن، پھر نیوٹرل ایکسپرٹ، ضرورت پڑے تو ثالثی عدالت۔ سوم ، نئے ذخائر، نہری نظام کی جدید کاری اور پانی کی بچت جیسے معاملات پر توجہ دی جائے۔ چہارم، سندھ طاس معاہدے کو عام آدمی کی زبان میں سمجھایا جائے تاکہ افواہوں کی بجائے حقائق سامنے آئیں۔ پنجم ، سفارت کاری سے دنیا کو بتایا جائے کہ پانی کو ہتھیار بنانا علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے۔ ششم ، آبی وسائل پاکستان کی قومی بقا کے لئے کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔ ریاستی سطح پر بھارتی آبی جارحیت کا ہر محاذ پر منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ سچ یہ ہے کہ اگر بھارت نے واقعی آبی دہشت گردی کا راستہ چنا ہے تو اس کا جواب بھی قانون، ثبوت اور اتحاد سے ہی دیا جائے گا۔