اسلام آباد (اوصاف نیوز) ایرانی ریال کی قدر عالمی منڈی میں بدستور دباؤ کا شکار ہے، جبکہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں اس کی قیمت کمزور سطح پر برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق معاشی دباؤ، پابندیوں اور خطے کی موجودہ صورتحال کے باعث ریال کی شرح مبادلہ میں روزانہ کی بنیاد پر اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔
تازہ ترین اوپن مارکیٹ معلومات کے مطابق آج بروز اتوار 5 جولائی ایک امریکی ڈالر تقریباً17 لاکھ 50 ہزار سے 17 لاکھ 56 ہزار 500 ایرانی ریال** کے درمیان ٹریڈ ہو رہا ہے، جو ایرانی کرنسی پر مسلسل دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیاں، بلند افراطِ زر، زرمبادلہ کے محدود ذخائر، تجارتی رکاوٹیں اور خطے میں جاری کشیدگی ایرانی معیشت اور ریال کی قدر کو متاثر کرنے والے اہم عوامل ہیں۔ اسی لیے اوپن مارکیٹ ریٹ کو سرکاری شرح مبادلہ کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔
پاکستانی کرنسی کے لحاظ سے ایک ایرانی ریال کی مالیت تقریباً 0.000202 پاکستانی روپے بنتی ہے، جبکہ ایک پاکستانی روپے کے بدلے تقریباً 4 ہزار 950 سے 6 ہزار 310 ایرانی ریال حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب کراچی اور لاہور کی اوپن مارکیٹ میں ایک کروڑ ایرانی ریال تقریباً 7 ہزار 500 سے 8 ہزار پاکستانی روپے کے درمیان خرید و فروخت ہو رہا ہے۔ بعض سرمایہ کار مستقبل میں ریال کی قدر میں بہتری کی توقع پر اس کرنسی میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، تاہم ماہرین نے اسے محتاط سرمایہ کاری قرار دیا ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں نے پاکستان اور ایران کے درمیان مالی لین دین کرنے والے افراد کو مشورہ دیا ہے کہ کرنسی کے تبادلے سے قبل مستند اوپن مارکیٹ ریٹس ضرور چیک کریں اور صرف لائسنس یافتہ ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے ہی لین دین کریں، کیونکہ موجودہ حالات میں ریال کی قیمت میں تیزی سے تبدیلی کا امکان برقرار ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ ادا

