پشاور (اوصاف نیوز)سوشل میڈیا پر افغان خود کش بمبار وسیم کا اعترافی بیان سامنے آ گیا۔تفصیلات کے مطابق سرحد پار ٹی ٹی پی کا بھرتی اور تربیتی نیٹ ورک بے نقاب ہوگیا۔افغان خود کش بمبار وسیم ارخی گوشتہ، ننگر ہار کا رہنے والا ہے۔جس نے 2023 میں مدرسہ انوار القرآن جلالہ آباد میں داخلہ لیا۔
خودکش بمبار نے اعترافی بیان میں کہا کہ جماعت الاحرار کے ایک کارندے نے خودکش بمبار کی تربیت کے لیے راضی کیا۔
اگست 2023 میں شونکڑے،کنٹر کے ایک مدرسے میں خود کش حملے کی تربیت حاصل کی۔شونکڑے کنٹر کاتربیتی مرکزمولوی بصیر کے زیر انتظام ہے۔جو ٹی ٹی پی کمانڈر ولی خراسانی کا بھائی ہے۔شونکڑے اور آس پاس کے دوسرے تربیتی مراکز میں تقریبا 100 لڑکوں نے تربیت حاصل کی ۔
خودکش بمبار نے بتایا کہ ٹی ٹی پی کے مولوی صدیق اور کمانڈر رشید ٹرینر تھے۔ایک نقاب پوش شخص باقاعدگی سے مذہبی خطبات کے ذریعے ذہن سازی کرتا تھا۔مئی2024 میں پشاور میں خود کش حملے کا حکم ملا۔مئی2024 میں اسمگلنگ نیٹ ورکس کے ذریعے پہلے کوئٹہ اور پھر پشاور پہنچا، لیکن پشاور پہنچتے ہی گرفتارہو گیا۔
مزید پڑھیں: آئی جی پنجاب کا ڈالہ کلچر کے بارے اہم بیان




