اسلام آباد (اوصاف نیوز) وفاقی حکومت نے ہدایت کی ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں خواتین کے لیے مختص 10 فیصد کوٹے پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔
وزارتوں، ڈویژنوں اور ماتحت اداروں کو جاری کردہ سرکلر میں انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے عملے کے ڈھانچے کا جائزہ لیں اور تازہ ریکارڈ پیش کریں جس سے واضح ہو کہ خواتین کے کوٹے پر کس حد تک عمل کیا جا رہا ہے۔
یہ ڈیٹا ایک جامع رپورٹ کی صورت میں مرتب کیا جائے گا تاکہ اعلیٰ حکام اس بات کا جائزہ لے سکیں کہ کون سی تنظیمیں اس پالیسی پر عملدرآمد کر رہی ہیں اور کہاں کمی ہے۔
محکموں سے کہا گیا ہے کہ منظور شدہ آسامیوں کی کل تعداد، ان میں سے کتنی آسامیاں خواتین کے کوٹہ کے تحت پر کی گئی ہیں اور کتنی خالی ہیں۔
یہ بھی بتایا جائے کہ مخصوص نشستوں کے استعمال نہ ہونے کی کیا وجوہات ہیں اور مستقبل میں بھرتی کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
حکومت نے زور دیا ہے کہ کوٹہ پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے کیونکہ خواتین کی مساوی نمائندگی حکومتی اصلاحات کا بنیادی مقصد ہے۔
یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قانون سازوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے وفاقی سطح پر خصوصاً درمیانی اور اعلیٰ عہدوں پر خواتین کی کم نمائندگی بڑھانے کے مطالبات بڑھ رہے ہیں۔
جن اداروں میں خواتین کے کوٹہ کے تحت خالی نشستوں کو پُر کرنے کے لیے بھرتی کی پابندی میں نرمی کی ضرورت ہے، انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ باضابطہ طور پر متعلقہ حکام کو مطلع کریں تاکہ انتظامی تاخیر کی وجہ سے کوئی منظور شدہ نشست خالی نہ رہے۔
یہ ہدایت وفاقی ملازمتوں میں خواتین کی شرکت بڑھانے اور پالیسی سازی اور گورننس میں صنفی توازن کو بہتر بنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔
مزید پڑھیں:بھارت میں پاکستان زندہ باد کےنعروں نے ہلچل مچادی، ویڈیو وائرل

