اسلام آباد (نیوز رپورٹ)وفاقی حکومت نے پاکستان ایگریکلچر اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کی تدریجی بندش اور اس کے 121 ارب روپے کے بقایا واجبات نمٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاسکو کے مالی مسائل حل کرنے کے لیے ویٹ اسٹاکس مینجمنٹ کمپنی کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاسکو کے مجموعی واجبات 527.6 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، جن کے حل کے لیے نئی تشکیل دی جانے والی کمپنی حکومت کی ضمانت پر بینکوں سے طویل المدتی فنانسنگ حاصل کرے گی۔ منظور ہونے والے اسپیشل پرپز وہیکل (SPV) کے بعد پاسکو کی مرحلہ وار بندش کا عمل شروع کیا جائے گا۔حکومتی حکام کے مطابق وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نئی کمپنی کے میمورنڈم اور آرٹیکلز آف ایسوسی ایشن کی تیاری مکمل کرے۔ نئی کمپنی کے قیام کے لیے 10 ہزار روپے فیس مقرر کی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ای سی سی نے ویٹ اسٹاکس مینجمنٹ کمپنی کو SOEs ایکٹ 2023 سے استثنیٰ دینے کی بھی منظوری دے دی ہے۔ مزید برآں وزارت خوراک کے جوائنٹ سیکریٹری کو کمپنی کا عبوری چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) مقرر کر دیا گیا ہے۔حکومت پانچ سے سات سال کے دوران ایس پی وی کے قرضے کو بجٹ کے ذریعے کلیئر کرے گی۔ منصوبہ مکمل ہونے پر نئی کمپنی کو سیلف لکوئڈیشن کے ذریعے تحلیل کر دیا جائے گا، جب کہ پاسکو کی کارکردگی اور ذمہ داریاں بتدریج ختم کر دی جائیں گی۔
مزید پڑھیں:غیر رجسٹرڈ موبائل بارے PTAکا بڑا اعلان



