Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

عمران خان کی مقبولیت اور انتخابی عمل ،زمینی حقائق کیا کہتے ہیں؟

اسلام آباد (اوصاف نیوز)8 فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد سیاسی مباحثے ایک نئی سمت اختیار کر چکے ہیں۔ بعض حلقے ان انتخابات کو ’’عمران خان کے کلٹ‘‘ کا نام دیتے ہیں، مگر تجزیہ کاروں کے مطابق اس رویے میں مقبولیت کی اصل حقیقت کو قبول کرنے سے گریز پایا جاتا ہے۔ جمہوری معاشروں میں عوامی مقبولیت کا واحد اور حتمی پیمانہ شفاف اور غیر جانبدار الیکشن ہوتے ہیں، تاہم پاکستان میں سیاسی عمل اور جمہوریت کو بار بار تعطل کا سامنا رہا، جس کے باعث آج ملک کو 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کی ضرورت پیش آئی ہے۔

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں میں ہونے والی تبدیلیوں اور مجوزہ اقدامات کا بنیادی مقصد یہ تاثر دیتا ہے کہ عمران خان کا راستہ روکا جائے۔ 8 فروری کے انتخابات نے ثابت کیا کہ میڈیا بلیک آؤٹ، پارٹی پر پابندیاں اور انتخابی نشان نہ ہونے کے باوجود ووٹ عمران خان کے امیدواروں کو ہی پڑا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ رجحان مستقبل کے انتخابات میں بھی دہرایا جاسکتا ہے۔

سرویز کیا بتاتے ہیں؟

مارچ 2022 سے اب تک ہونے والے معتبر سرویز کے مطابق عمران خان کی مقبولیت میں کمی ریکارڈ نہیں کی گئی۔ یہ بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے کہ اکتوبر میں پنجاب میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کو ’’تا حکمِ ثانی‘‘ ملتوی کردیا گیا۔

پنجاب: سیاسی معرکوں کا مرکز

پنجاب ہمیشہ پاکستانی سیاست میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا آیا ہے۔ قوم پرست جماعتوں سے لے کر بڑی قومی جماعتوں تک، سب نے اس صوبے پر ’’اسٹیبلشمنٹ کے اثر‘‘ کا الزام لگایا۔ تاہم زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ پنجاب کے عوام ہمیشہ اس قیادت کے ساتھ کھڑے رہے جو دباؤ کے باوجود اپنی پوزیشن پر ڈٹی رہی۔

1993 میں نواز شریف کی مقبولیت اس وقت بڑھی جب انہوں نے دباؤ میں آنے سے انکار کیا اور جی ٹی روڈ کا راستہ اختیار کیا۔

لیکن 2000 میں جنرل پرویز مشرف سے سمجھوتے اور 2020 میں مشکل وقت میں لندن روانگی نے پارٹی کے لیے سیاسی خلا پیدا کیا، جسے عمران خان نے اپنے بھرپور بیانیے کے ذریعے پُر کیا۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے فوری بعد عام انتخابات ہوجاتے تو شاید پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی مخالفت اس حد تک نہ بڑھتی۔

پیپلز پارٹی کی پنجاب میں سیاسی پسپائی
ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پنجاب پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑا تھا، مگر سیاسی انجینئرنگ، اتحادوں اور قیادت کی غلط حکمتِ عملیوں نے اسے بتدریج پیچھے دھکیل دیا۔ 2013 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کا بیشتر ووٹر تحریک انصاف کی طرف منتقل ہوگیا، اور پارٹی نے ان نتائج کا سیاسی طور پر درست جائزہ نہیں لیا۔

ضمنی انتخابات اور طاقت کا توازن
لاہور سمیت پنجاب کے چند حلقوں میں ضمنی انتخابات 23 نومبر کو متوقع ہیں۔ روایتی طور پر ضمنی انتخابات حکمران جماعت کے حق میں جاتے ہیں، تاہم پی ٹی آئی کے دور میں متعدد ’’اپ سیٹ‘‘ بھی ریکارڈ ہوئے۔ پی ٹی آئی کے کئی امیدوار اب آزاد حیثیت میں میدان میں اُتر رہے ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) 2022 سے بطور تنظیم فعال نظر نہیں آتی، اگرچہ حکومت انہی کی ہے۔

عمران خان کا ووٹر کون ہے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کی مقبولیت کے تین مضبوط ستون ہیں:

وہ طبقہ جو پہلے کبھی ووٹ ڈالنے نہیں نکلتا تھا۔

ملک کی 60 فیصد نوجوان آبادی، جو بڑی حد تک اب بھی پی ٹی آئی کے بیانیے کی حامی ہے۔

وہ غیر جانبدار ووٹر جو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں سے مایوس ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان عوامل کا مقابلہ دباؤ یا پابندیوں سے نہیں بلکہ سیاسی بیانیے کے ذریعے کیا جاسکتا ہے، کیونکہ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ ریاستی حربے اکثر اپوزیشن کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔

مقبولیت کا اصل پیمانہ

سیاسی تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ مقبولیت کو زبردستی کم نہیں کیا جاسکتا۔ جمہوری معاشروں میں یہ عمل صرف انتخابی پروسیس کے ذریعے ہی تبدیل ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو بھٹو کی پھانسی کے بعد بھی ان کا سیاسی اثر چار دہائیوں تک برقرار نہ رہتا۔

آخر میں ماہرین اس نکتے پر زور دیتے ہیں:

پاکستان میں سیاسی استحکام کا واحد راستہ شفاف، آزاد اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے۔
مزید پڑھیں:31 دسمبر تک شادی کرو اور کیش انعام پاؤ ، منفرد اسکیم متعارف

یہ بھی پڑھیں