اسلام آباد (اوصاف نیوز) اسلام آباد کورٹ خودکش حملے میں ملوث گرفتار دہشت گرد کے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی عدالت میں ہونے والے خودکش حملے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے، گرفتار ملزم ساجد اللہ کا اعترافی بیان سامنے آگیا ہے۔
گرفتار ملزم ساجد اللہ نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ حملے کی پوری منصوبہ بندی افغانستان میں طالبان کمانڈروں نے کی تھی اور سرحد پار سے مسلسل رابطے کیے جا رہے تھے۔
ملزم نے بتایا کہ وہ 2016 میں افغانستان کے صوبہ کنڑ گیا، جہاں اس کی ملاقات طالبان کمانڈر ابو حمزہ سے ہوئی جس نے اسے تربیت دی، جس کے بعد وہ ابو حمزہ سے ملنے 2023 میں دوبارہ افغانستان گیا، جہاں اس کا تعارف ایک اور طالبان کمانڈر داد اللہ سے ہوا۔
ساجد اللہ نے بتایا کہ داد اللہ باجوڑ کا رہائشی ہے لیکن اس وقت افغانستان میں ہے۔ داد اللہ نے ملزم سے رابطہ کیا اور اسے افغانستان بلایا اور بتایا کہ پاکستان میں خودکش حملے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔
ملزم نے بتایا کہ داد اللہ نے اسے کہا تھا کہ وہ خودکش حملہ آور بھیجے گا، بعد ازاں خودکش جیکٹ پشاور کے قبرستان میں دی گئی جسے ملزم نے اسلام آباد میں راجپوت سینٹر کے قریب نالے میں چھپا دیا۔
گرفتار ملزم نے مزید بتایا کہ اسے پیغام ملا کہ جلد ہی ایک خودکش حملہ آور اس کے پاس آئے گا جس کا نام عثمان ہے۔ کچھ دن بعد خودکش حملہ آور اس کے پاس آیا اور کچھ دن اس کے پاس رہا جس کے بعد اسے کسی اور شخص کے حوالے کر دیا گیا اور پھر کرائے کا کمرہ لے لیا گیا۔
ملزم کے مطابق چند روز بعد محمد زلی نے اسے بتایا کہ عثمان نے G-11 کی لوکیشن بتائی ہے۔ بعد ازاں قاری عثمان کو خودکش جیکٹ دی گئی اور وہ اسلام آباد کی عدالت کے لیے روانہ ہوگئے جہاں حملہ ہوا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ساجد اللہ کے بیانات کی روشنی میں تفتیش کو مزید وسعت دی گئی ہے اور افغانستان میں نیٹ ورک سے روابط کے شواہد پر پیش رفت کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں:ڈالر کے مقابلے میں روپیہ تگڑا! جانئے کتنا؟
