Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

پی ٹی آئی خود ہی اپنے آپ کو مائنس کر رہی ہے، لیگی رہنما کا بڑا انکشاف

اسلام آباد (‌اوصاف نیوز)‌ لیگی رہنما آغا شاہ زیب درانی نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک کنفیوژڈ جماعت ہے، خود ہی اپنی باتوں میں تضاد پیدا کرتی ہے۔ آج ان کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں بھی اختلافات سامنے آئے۔ ایک طرف بیرسٹر گوہر کہتے ہیں کہ ہمیں اسپیس دیں، ہم بات کرنے کو تیار ہیں، ہم جمہوری لوگ ہیں۔ دوسری طرف انہی کے رہنما ڈاکٹر امجد ٹی وی پر بیٹھ کر کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت کا مینڈیٹ جعلی ہے، ان سے بات نہیں ہوگی۔

اے بی این کے پروگرام تجزیہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری طرف سے تو شروع دن سے مذاکرات کی پیشکش ہے۔ مگر کبھی کہتے ہیں ہم حکومت سے بات نہیں کریں گے، اسٹیبلشمنٹ سے کریں گے۔ پھر انہی پر تنقید شروع کر دیتے ہیں۔ کبھی فوج کے سربراہ کو غلط القابات دیتے ہیں، کبھی پھر کہتے ہیں کہ ہمیں ان سے بڑی عزت ہے۔ یہ خود کنفیوژ ہیں اور انتشار پھیلاتے ہیں۔

پیپلزپارٹی رہنما نٰاز بلوچ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کنفیوژ نہیں ہے۔ ہم واضح مؤقف رکھتے ہیں۔ ہمیں نہ وزارتوں کا لالچ ہے نہ اقتدار کا۔ ہم صرف جمہوریت کے تسلسل اور آئین کی پاسداری چاہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی اپنی ذات اور انا کی جنگ نہیں لڑتی بلکہ ملک کے وسیع تر مفاد میں عمل کرتی ہے۔ پی ٹی آئی نے انتقام کی سیاست کی، فریال تالپور کو راتوں رات گرفتار کیا گیا، مگر ہم پھر بھی مفاہمت کا دروازہ بند نہیں کرتے۔ تاہم پی ٹی آئی آج بھی وہی انتشار پھیلا رہی ہے جو 9 مئی کو کیا۔ عمران خان کے جیل سے آنے والے بیانات ریاستی اداروں کے خلاف ہیں اور انتہائی قابلِ مذمت ہیں۔

لیگی رہنما نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کو کوئی مائنس نہیں کر رہا۔ وہ خود ہی اپنے آپ کو مائنس کر رہے ہیں۔ ان کے رہنما ایک جگہ بیٹھ کر فیصلے نہیں کر سکتے۔ پاکستان کی سالمیت، شناخت اور آئینی حیثیت سب سے اہم ہے۔ اگر کوئی اداروں کے خلاف جائے گا، غیر آئینی بات کرے گا تو پھر صرف مائنس ون نہیں، پوری جماعت بھی مائنس ہوسکتی ہے۔ ماضی میں بھی ایسا ہوچکا ہے — الطاف حسین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔

اے بی این کے پروگرام تجزیہ میں گفتگو کرتے ہوئے ناز بلوچ نے کہا کہ ماضی میں ہم نے “مائنس” کے فارمولے بہت سنے—حتیٰ کہ آپ کی اپنی قیادت، آصف زرداری اور شہید بے نظیر بھٹو کے حوالے سے بھی اس طرح کی باتیں ہوتی رہیں۔ کیا آپ سمجھتی ہیں کہ سیاست میں کسی کو مائنس کیا جاسکتا ہے؟ یا کسی سیاست دان یا سیاسی جماعت کے بارے میں یہ مطالبہ درست ہے کہ انہیں مائنس کر دیا جائے یا ان پر پابندی لگا دی جائے؟

دیکھئے، 2011 سے 2013 تک خود تحریکِ انصاف کے عمران خان یہی مائنس ون کی باتیں کرتے تھے۔ خود وہ اس وقت یہ مطالبہ کرتے تھے کہ کراچی میں جو جماعت دہشت پھیلا رہی ہے اسے ختم ہونا چاہیے۔ لیکن آج جب وہی بیانیہ خود ان پر لاگو ہوتا ہے، جب وہ اپنے ملک اور ریاستی اداروں کے خلاف بیانات دیتے ہیں، تو یہ انتہائی افسوسناک ہے۔ جن القابات سے وہ اداروں کے سربراہان کو پکارتے ہیں، وہ بھی قابلِ مذمت ہیں۔

آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا ایجنڈا بھارت نے اٹھا رکھا ہے، اور اگر اسی قسم کی زبان ہمارے ملک کے اندر بیٹھے سیاسی رہنما استعمال کرنے لگیں تو یہ نہایت خطرناک صورتحال ہے۔ اس سے بچنا ضروری ہے۔

میں اس سیاسی جماعت کی نمائندہ ہوں جس نے ضیاء الحق کی آمریت کا بدترین دور دیکھا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو Extrajudicial طریقے سے قتل کیا گیا۔ آج عدالتیں خود کہتی ہیں کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی تھی۔ اس کے باوجود شہید بے نظیر بھٹو اور ہمارے کارکنوں نے اپنی جدوجہد پُرامن طریقے سے جاری رکھی۔

کوڑے کھائے، جیلیں دیکھیں، نظربندیاں برداشت کیں، لیکن کبھی پاکستان کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔ نہ کبھی دشمن کے بیانیے کو تقویت دی۔ یہی وجہ ہے کہ شہید بھٹو کے بعد بی بی شہید نے پارٹی کی وراثت کو آگے بڑھایا اور آج بلاول بھٹو زرداری اسی سوچ کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔

یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی ایک ادارہ ہے۔ ہم نے قربانیاں دیں، شہادتیں دیں، دہشتگردی میں بے نظیر بھٹو کو کھویا—جو صرف پیپلز پارٹی کا نہیں، پاکستان کا نقصان ہے—لیکن پھر بھی “پاکستان کھپے” کا نعرہ لگایا۔

المیہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کا تو کسی سے موازنہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا تو اپنے آپ سے بھی مقابلہ نہیں ہو سکتا۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی قیادت کا بیانیہ تقسیم شدہ ہے۔ جیل میں بیٹھا لیڈر کچھ اور کہتا ہے، باہر بیٹھے ارکانِ پارلیمنٹ کچھ اور۔ آج ان کے پارلیمانی لیڈر کا بیانیہ ہی بالکل مختلف ہے۔

سب سے پہلے تو انہیں طے کرنا چاہیے کہ ان کی پارٹی کی پالیسی ہے کیا؟ جب تک وہ خود واضح نہیں ہوں گے، باقی لوگ کیا سمجھیں گے؟

آغا شاہ زیب درانی کا کہنا تھا کہ آج حکومت کی جانب سے اختیار ولی نے کہا کہ حکومت سنجیدگی سے سوچ رہی ہے کہ عمران خان کو اڈیالہ سے کسی اور جگہ منتقل کیا جائے۔ لوگ کہتے ہیں کہ پہلے یہ تاثر تھا کہ جیل میں ڈالنے سے مسئلہ حل ہو جائے گا، مگر ڈھائی سال گزر گئے، مسئلہ حل نہیں ہوا۔ اب اگر انہیں کسی اور صوبے کی جیل میں منتقل بھی کر دیں، تو کیا سیاسی بحران ختم ہو جائے گا؟

مزید پڑھیں‌:روہت اور ویرات نے بابر اعظم کو رینکنگ میں پیچھے چھوڑ دیا

یہ بھی پڑھیں