اسلام آباد (اوصاف نیوز) وفاقی حکومت نے بجلی صارفین پر مزید مالی بوجھ ڈالنے اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے طور پر 32 پیسے فی یونٹ اضافی وصولی کی منظوری دے دی ہے جس سے گھریلو اور کمرشل صارفین دونوں متاثر ہوں گے۔
یہ اضافی رقم دسمبر، جنوری اور فروری میں استعمال ہونے والے بجلی کے یونٹوں پر صارفین سے وصول کی جائے گی۔ اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے لیسکو سمیت ملک بھر کی تمام بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs) کو باضابطہ مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے جس کے بعد بجلی کے بلوں میں اضافہ دیکھا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ ڈسکوز کی جانب سے دائر درخواست پر کیا گیا۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ایندھن، پیداواری لاگت اور دیگر مالی اخراجات میں اضافے کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ ناگزیر ہو گئی ہے۔ نیپرا نے دلائل کا جائزہ لینے کے بعد صارفین سے اضافی رقم وصول کرنے کی اجازت دے دی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہا ہے جو پہلے ہی مہنگائی کی شدید لہر کا شکار ہے۔
گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ چھوٹے کاروبار اور صنعتیں بھی اس فیصلے سے متاثر ہوں گی، جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافے کا اندیشہ ہے۔
حکومت اور نیپرا کے اس فیصلے پر عوامی حلقوں میں شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، شہری تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ بجلی کے نرخ بڑھانے کی بجائے متبادل حل تلاش کیا جائے تاکہ صارفین کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں:فلائٹ آپریشن جزوی طور پر متاثر




