اسلام آباد(اوصاف نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انصاف پر مبنی فیصلہ ہے، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے اپنے گھر میں کاروبار بنایا ہوا تھا۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ پبلک آفس ہولڈر کو سرکاری سطح پر دیا جانے والا تحفہ ریاست کا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ ون کے تحائف کو مارکیٹ میں فروخت کیا گیا، تحائف کو مارکیٹ میں فروخت کرکے ان پر منافع بھی کمایا گیا، انہوں نے سوچا کچھ تحائف فروخت کردو اس سے منافع کمالو اور پیسے اپنے پاس رکھ لو۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا، اصل قیمت سے کم اونے پونے پیسے قومی خزانے میں جمع کرائے گئے، یہ احتساب کی بات کرتے ہیں اور ان پر کرپشن کے کیسز سامنے آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ ون میں کروڑوں روپے کے تحائف فروخت کرکے پیسے کھائے گئے، اس کیس میں تحفے غیرقانونی طور پر اپنی تحویل میں لیے گئے، تحفے کی مارکیٹ ویلیو بہت کم فراڈ کرکے لگائی گئی۔
تحفے کی کم ویلیو لگا کر قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا، پبلک آفس ہولڈرکو زیب نہیں دیتا کہ وہ ایسی حرکتیں کریں، ان کے دورمیں وزیراعظم صبح دفتر آکر 5 بجے گھر چلا جاتا تھا۔
شام کو یہ کاروبارکرتے تھے کس کو زمینیں الاٹ کرنی ہے، انہوں نے امانت میں خیانت کی ہے، انہوں نے عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی، 7 کروڑ کے تحفے کی قیمت 13 لاکھ روپے لگانا یہ مذاق ہے۔
7 کروڑ کے تحفے کی 13 لاکھ قیمت لگا کر اونے پونے پیسے قومی خزانے میں جمع کرائے گئے، تحائف ریاست کی سطح پر دیے جاتے ہیں، انہوں نے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی کرائی۔
مزید پڑھیں:نو بیاہتا جوڑا ٹرین سے گر کر جاں بحق
