Search
Close this search box.
منگل ,09 جون ,2026ء

وفاق نے 15 سال میں خیبر پختونخوا کو 8,404 ارب روپے ادا کر دیے، بقایاجات کا بیانیہ غلط ثابت

اسلام آباد (اوصاف نیوز) وفاقی حکومت نے گزشتہ پندرہ برسوں کے دوران خیبر پختونخوا حکومت کو مجموعی طور پر 8,404 ارب روپے (8.4 کھرب روپے) ادا کر دیے ہیں، جس کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے پیش کیا جانے والا 2,200 ارب روپے کے بقایاجات کا بیانیہ زمیں بوس ہو گیا ہے۔

یہ انکشاف وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی مالی دستاویزات میں کیا گیا ہے۔دستاویزات کے مطابق سن 2010 سے نومبر 2025 کے عرصے میں وفاق نے این ایف سی ایوارڈ، دہشت گردی کے اضافی بوجھ، اسٹریٹ ٹرانسفرز، ضم شدہ اضلاع، آئی ڈی پیز، ترقیاتی منصوبوں اور سماجی تحفظ کے مختلف پروگرامز کے تحت خیبر پختونخوا کو رقوم منتقل کیں۔وزارت خزانہ کے مطابق این ایف سی ایوارڈ کے تحت 2010 سے اب تک خیبر پختونخوا حکومت کو 5,867 ارب روپے کا سو فیصد شیئر باقاعدگی سے ادا کیا جا چکا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ این ایف سی رقوم ہر پندرہ دن بعد صوبوں کو منتقل کی جاتی ہیں اور اس مد میں کوئی بقایا موجود نہیں۔دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ 17 دسمبر 2025 کو بھی وفاق نے این ایف سی کے تحت خیبر پختونخوا کو 46.44 ارب روپے جاری کیے۔اسی طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث اضافی بوجھ کے پیش نظر این ایف سی میں دیے گئے اضافی ایک فیصد کے تحت خیبر پختونخوا کو اب تک 705 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔

وزارت خزانہ کے مطابق اسٹریٹ ٹرانسفرز کی مد میں 2010 سے اب تک صوبے کو 482.78 ارب روپے رائلٹی، جی ڈی ایس اور ایکسائز کی صورت میں ادا کیے گئے۔نئے ضم شدہ اضلاع کے لیے وفاق نے اپنے حصے سے 2019 سے اب تک 704 ارب روپے منتقل کیے، جب کہ آئی ڈی پیز کی بحالی کے لیے اضافی 117.166 ارب روپے بھی فراہم کیے گئے۔وفاقی ترقیاتی پروگرام (PSDP) کے تحت خیبر پختونخوا کے مختلف منصوبوں کے لیے 115 ارب روپے جاری۔

کیے گئے، جب کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے تحت 2016 سے 2025 کے دوران صوبے کے عوام کو 481.433 ارب روپے کی براہ راست مالی معاونت فراہم کی گئی۔ماہرینِ معیشت کے مطابق PSDP فنڈز کسی صوبے کے واجب الادا حقوق نہیں ہوتے بلکہ ان کا اجرا منصوبوں کی فزیکل اور مالی کارکردگی سے مشروط ہوتا ہے۔

جن منصوبوں میں پیش رفت نہیں ہوتی، وہاں فنڈز خودکار طور پر جاری نہیں کیے جاتے۔ماہرین نے واضح کیا ہے کہ PSDP فنڈز کی عدم اجرائی کو این ایف سی بقایاجات یا وفاقی واجبات کے طور پر پیش کرنا مالی نظم و ضبط اور بجٹ قوانین کی صریح غلط تشریح ہے۔ان اعداد و شمار کے بعد یہ مؤقف بھی مسترد ہو جاتا ہے کہ وفاق نے خیبر پختونخوا کے مالی حقوق روک رکھے ہیں یا صوبے کے ذمے کوئی بڑی رقم بقایا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی حکومت این ایف سی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، جن میں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا قیام، ذیلی گروپس کی تشکیل اور صوبائی مشاورت شامل ہیں۔وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی ترجیح واضح ہے کہ خیبر پختونخوا کو سلامتی، بحالی، انضمام اور ترقی کے تمام چیلنجز میں شفاف، منصفانہ اور کارکردگی پر مبنی مالی معاونت فراہم کی جاتی رہے۔
مزید پڑھیں:راحت فتح علی خان کی بیٹی کی شادی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

یہ بھی پڑھیں