کراچی ( اوصاف نیوز)سینیٹر سرمد علی، چیئرمین سینیٹ لائبریری کمیٹی، نے پیر کے روز کراچی میں منعقدہ دوسرے کراچی فیسٹیول آف بکس اینڈ لائبریریز 2025 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قومی ترقی میں کتب اور کتب خانوں کی اہمیت پر زور دیا۔
دو روزہ فیسٹیول کا انعقاد کراچی فیسٹیول آف بکس اینڈ لائبریریز کے تحت کیا جا رہا ہے، جبکہ افتتاحی تقریب کی میزبانی فیسٹیول کے بانیان، سینئر صحافی عزیز میمن اور سید خالد محمود نے کی۔
اپنے خطاب میں سینیٹر سرمد علی نے اسلام کے بنیادی پیغام “اقرأ” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مطالعہ اور تعلیم ایک ترقی پسند معاشرے کی بنیاد ہیں۔
انہوں نے کہا، “کتب اور کتب خانوں کو زندہ ادارے سمجھا جانا چاہیے، جنہیں مسلسل توجہ، بہتری اور تنظیمِ نو کی ضرورت ہوتی ہے۔”
مطالعے کے زوال پذیر رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “بدقسمتی سے کتب خانوں کو وہ توجہ نہیں دی گئی جس کے وہ مستحق تھے، جس کے باعث ملک میں مطالعے کا رجحان بتدریج کم ہوتا جا رہا ہے۔”
ماضی کو یاد کرتے ہوئے سینیٹر نے کہا، “ایک وقت تھا جب ہر محلے میں چھوٹے کتب خانے موجود ہوتے تھے، مگر یہ روایت اب تقریباً ختم ہو چکی ہے۔”
انہوں نے اشاعتی رجحانات میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا، “ماضی میں کتابوں کے کم از کم تین ہزار نسخے شائع کیے جاتے تھے، جبکہ آج یہ تعداد کم ہو کر تقریباً تین سو رہ گئی ہے۔”
تاہم، مطالعے کے فروغ کے حوالے سے امید کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کراچی انٹرنیشنل بک فیئر کا حوالہ دیا، جہاں تقریباً پانچ لاکھ افراد نے شرکت کی، جو عوامی دلچسپی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے ملک میں نیشنل لائبریری ڈے یا نیشنل بک ریڈنگ ڈے منانے کی تجویز بھی دی۔
اس موقع پر انہوں نے کہا، “اگرچہ دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت کی جانب بڑھ رہی ہے، تاہم ہمیں اپنی بنیادوں یعنی کتابوں سے جڑے رہنا ہوگا اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو بھی فروغ دینا ہوگا۔”
سینیٹر سرمد علی نے اپنے خطاب کے اختتام پر البرٹ آئن اسٹائن کا قول نقل کیا، “واحد چیز جو آپ کو لازماً معلوم ہونی چاہیے، وہ آپ کی لائبریری کا مقام ہے۔”
تقریب میں عزیز میمن، سید خالد محمود، سیکرٹری نیشنل بک فاؤنڈیشن مراد علی مومن، نیشنل لائبریری آف پاکستان کے نمائندے حسنین شاہ، عظیم قریشی اور محبوب شاہ نے شرکت کی۔ فیسٹیول کے دوران دو روز تک کتابوں کے اسٹالز اور ادبی نشستوں کا انعقاد کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں:وفاقی حکومت کا آزاد کشمیر کے لیے بڑا تحفہ




