(اوصاف نیوز)پیرس کی ایک عدالت نے فرانس کی خاتونِ اول بریژیت میکرون کے خلاف آن لائن ہراسانی کرنے کے الزام میں 10 افراد کو مجرم قرار دے دیا ہے۔ یہ ہراسانی اس جھوٹے دعوے پر مبنی تھی کہ بریژیت میکرون ایک ٹرانسجینڈر خاتون ہیں۔
استغاثہ کے مطابق آٹھ مردوں اور دو خواتین نے سوشل میڈیا کے ذریعے یہ سازشی نظریہ پھیلایا کہ بریژیت میکرون پیدائشی طور پر مرد تھیں اور ان کا اصل نام ژاں مشیل ٹروگنو تھا، جو دراصل ان کے بڑے بھائی کا نام ہے۔ بعض پوسٹس میں صدر ایمانوئل میکرون اور بریژیت میکرون کے درمیان 24 سال کے عمر کے فرق کو بھی ’’ پیڈوفیلیا‘‘ سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔
عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی سزاؤں میں چھ ماہ قید بامشقت سے لے کر آٹھ ماہ تک کی معطل قید شامل ہے، جبکہ جرمانے، سائبر ہراسانی کے خلاف لازمی تربیتی کورسز، اور پانچ ملزمان کے لیے اُن سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی بھی عائد کی گئی جہاں انہوں نے یہ مواد پوسٹ کیا تھا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میکرون جوڑا امریکا میں مبصر کینڈس اوونز کے خلاف ایک علیحدہ ہتکِ عزت کے مقدمے کی پیروی کر رہا ہے، جنہوں نے بریژیت میکرون کے بارے میں یہی جھوٹا صنفی دعویٰ دہرایا تھا۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں خاتونِ اول نے کہا کہ وہ آن لائن ہراسانی کے خلاف آواز بلند کرنے اور اس کا سامنا کرنے والے دیگر افراد کے لیے مثال قائم کرنے کے لیے قانونی کارروائی کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں:عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کروادی گئی


