Search
Close this search box.
منگل ,09 جون ,2026ء

ایران میں بدامنی، مظاہرین منتشر، سیکڑوں افراد ہلاک

تہران (اوصاف نیوز) انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن میں 648 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے میں قائم تنظیم ایران ہیومن رائٹس نے خبردار کیا ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے تاہم ملک بھر میں مواصلاتی بلیک آؤٹ نے آزادانہ طور پر معلومات کی تصدیق کرنا انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔

تنظیم کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کو طاقت کے ذریعے منتشر کیا، جس کے دوران براہ راست فائرنگ، گرفتاریوں اور تشدد کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ دوسری جانب ایرانی حکام سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کر رہے ہیں جبکہ سرکاری میڈیا ہلاکتوں کی تعداد کو کم بتا رہا ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر مظاہرین کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رہا تو واشنگٹن بہت سخت آپشنز پر غور کر سکتا ہے۔ ٹرمپ پہلے خبردار کر چکے ہیں کہ وہ مظاہرین کے مارے جانے کی صورت میں کارروائی کریں گے۔

صدر ٹرمپ کے بیانات کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ دھوکے باز اور غدار کرائے کے فوجیوں پر انحصار کر رہا ہے۔ انہوں نے حکومت کی حمایت میں نکالی جانے والی سرکاری ریلیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم بیرونی دباؤ اور سازشوں کے سامنے نہیں جھکے گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کو اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ اپنے بیانات پر عمل کریں یا نہیں کیونکہ کسی بھی ممکنہ امریکی مداخلت کے علاقائی اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ مظاہروں کی ایک بڑی وجہ ایران کی کرنسی کی قدر میں تیزی سے کمی، مہنگائی اور معاشی بحران ہے جس نے عوامی غصے کو مزید ہوا دی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ احتجاج اسلامی جمہوریہ ایران کو درپیش سنگین ترین چیلنجوں میں سے ایک بن گیا ہے۔

واضح رہے کہ بی بی سی اور دیگر بین الاقوامی میڈیا ادارے ایران کے اندر سے آزادانہ رپورٹنگ کرنے سے قاصر ہیں جس کی وجہ سے زمینی حقائق تک رسائی محدود ہے۔
مزید پڑھیں:موٹر ویز ٹریفک کے لیے بند

یہ بھی پڑھیں