تہران (اوصاف نیوز) یورپی یونین نے ایران میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر ایران پر اضافی پابندیاں عائد کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یورپی یونین کے ترجمان انور العنونی نے کہا کہ یورپی یونین ایران میں مظاہرین کے خلاف حکومت کی پرتشدد کارروائیوں پر نئی اور مزید سخت پابندیاں تجویز کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ یورپی یونین ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ اور مظاہرین کے خلاف تشدد کو ناقابل قبول سمجھتا ہے۔ جس کی وجہ سے مزید پابندیاں لگنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں حکومت کے حق میں بڑے پیمانے پر ریلیاں نکالی گئیں۔ تہران کے مرکزی انقلاب اسکوائر پر ہزاروں شہری جمع ہوئے اور حکومت کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔
حکومت کے حامی مظاہرین نے غیر ملکی حمایت یافتہ مسلح فسادات کی مخالفت کی۔ اور سیکورٹی فورسز کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوششوں کو ناکام بنایا جائے گا۔
ایرانی حکومت کا موقف ہے کہ ملک میں فسادات غیر ملکی مداخلت کا نتیجہ ہیں جب کہ یورپی یونین سمیت مغربی ممالک اس پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی، پی ٹی اے نے درخواستیں طلب کر لیں
