Search
Close this search box.
منگل ,09 جون ,2026ء

اپوزیشن لیڈرز کی عمران خان سے ملاقاتیں وقت کی ضرورت ہیں، پی ٹی آئی پنجاب

اسلام آباد( اوصاف نیوز)اپوزیشن لیڈرپی ٹی آئی پنجاب معین قریشی نے کہاکہ عمران‌خان کی غیر موجودگی میں پارٹی کو سب سے بڑا چیلنج نظم و ضبط کا ہے،پارٹی کے اندر اختلاف رائے بڑھنا فطری عمل ہے،ہر گروپ بانی پی ٹی آئی کے مؤقف کو اپنے انداز میں پیش کر رہا ہے،پارلیمان میں اپوزیشن کا کردار پارٹی کو سیاسی میدان میں زندہ رکھے ہوئے ہے،سڑکوں کی سیاست اور پارلیمانی سیاست میں توازن ضروری ہو چکا ہے،بڑا مارچ فائدہ بھی دے سکتا ہے اور بڑا نقصان بھی ہوسکتا ہے،منتشر احتجاج دباؤ برقرار رکھتا ہے مگر پیغام کمزور پڑ جاتا ہے،فیصلہ احتجاج کا نہیں، فیصلہ قیادت کے اتحاد کا ہے،جب تک چین آف کمانڈ واضح نہیں ہوگی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکتی.

اےبی این نیوزکےپروگرام’’ڈیبیٹ@8‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے معین قریشی نے کہا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ احتجاج کب ہوگاا ور فیصلہ کون کرے گا، عمران خان کا بیانیہ آج بھی ووٹر بیس میں زندہ ہے،پارٹی کو جذبات کے بجائے حکمت عملی کی ضرورت ہے،یہ حکومت فارم 47 کے ذریعے عوامی رائے پر ڈاکہ ڈال کر آئی،حکومت کے ہاتھ کرپشن اور بدانتظامی سے رنگے ہوئے ہیں،ملک کو آج سیاسی نہیں بلکہ گورننس کا بحران درپیش ہے،حکومت کا فرض بنتا ہے کہ دل بڑا کر کے پہلا قدم اٹھائے،
تحریک تحفظ آئین پاکستان سے حکومت کو بامعنی رابطہ کرنا چاہیے،اپوزیشن لیڈرز کی عمران خان سے ملاقاتیں وقت کی ضرورت ہیں.

اپوزیشن لیڈرپی ٹی آئی پنجاب نے کہاکہ جب سیاسی لوگ بیٹھتے ہیں تو کوئی نہ کوئی راستہ نکل آتا ہے،حکومت جس راستے پر جا رہی ہے وہ پاکستان کے مفاد میں نہیں،وفاقی جماعت کا صوبوں میں اس طرح مداخلت کرنا درست نہیں،سیاسی مسائل کا حل صرف سیاسی مذاکرات میں ہے،ملک اور عوام کے مفاد میں حکومت کو فوری سنجیدگی دکھانا ہوگی.
مزید پڑھیں‌:فلم سٹار میرا زخمی، ویڈیو سامنے آگئی

یہ بھی پڑھیں