لاہور (اوصاف نیوز) پنجاب حکومت نے ’’کنیکٹڈ پنجاب‘‘ کے نام سے ایک نیا اور جامع منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نئے منصوبے کے تحت پنجاب بھر میں تیز رفتار انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل گورننس سسٹم کو فروغ دیا جائے گا۔ منصوبے کی کل لاگت 100 ملین ڈالر مقرر کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
اس منصوبے کے لیے فنڈز بیرونی فنانسنگ کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے۔ جبکہ قرض کی ادائیگی کارکردگی سے مشروط ہوگی۔ فنڈز ڈی ایل آئی ماڈل کے تحت جاری کیے جائیں گے۔ جس کے مطابق کارکردگی کے بغیر کوئی قسط جاری نہیں کی جائے گی۔
کنیکٹڈ پنجاب منصوبے کے تحت صوبے بھر میں فائبر آپٹک نیٹ ورک بچھایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے رائٹ آف وے اور این او سی کے قوانین میں نرمی کی جائے گی۔ تاکہ پرائیویٹ کمپنیوں کو سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کی جا سکے۔ نجی ٹیلی کام کمپنیاں دیہی اور پسماندہ علاقوں تک فائبر نیٹ ورکس کو توسیع دیں گی۔
حکومت کے مطابق اس وقت پنجاب میں صرف 16 فیصد موبائل ٹاورز فائبرائزڈ ہیں۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے یہ پروجیکٹ متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سرکاری دفاتر کو ایک ہی تیز رفتار ڈیجیٹل نیٹ ورک سے جوڑنے کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔
منصوبے کے تحت فائلیں اور سرکاری ریکارڈ کو مکمل طور پر ڈیجیٹل سسٹم میں منتقل کیا جائے گا۔ جبکہ فیس، ٹیکس اور جرمانے کی ادائیگی موبائل فون اور کارڈ کے ذریعے ممکن بنائی جائے گی۔ کم از کم 15 مختلف سرکاری محکموں کو ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام سے منسلک کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
پنجاب حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ کنیکٹڈ پنجاب پراجیکٹ کے ذریعے شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے، غیر ضروری تاخیر اور رشوت ستانی جیسے مسائل سے نجات مل جائے گی۔ جبکہ کروڑوں شہری تیز رفتار انٹرنیٹ، شفاف نظام اور بہتر سہولیات سے مستفید ہو سکیں گے۔
مزید پڑھیں:مہمند ڈیم سے بجلی کی پیداوار پر خوشخبری سامنے آ گئی

