Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

سپریم لیڈر کے بڑے فیصلے کا اعلان سامنے آ گیا

تہران (انٹرنیشنل نیوز) ایران نے اپنے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی پر انتہائی سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق یہ سخت ردعمل پارلیمانی کمیشن برائے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی نے ایک بیان میں دیا ہے۔

جس میں کہا گیا ہے کہ اگر آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنایا گیا تو نہ صرف ایران بلکہ پوری مسلم قوم اس کے خلاف متحد ہو جائے گی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم لیڈر پر حملے کی صورت میں علمائے کرام جہاد کا فتویٰ جاری کریں گے، جس کے بعد دنیا کے مختلف حصوں میں اسلام کے سپاہیوں کی جانب سے سخت ردعمل دیا جائے گا۔

ایرانی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں اسلام کے سپاہیوں کے ردعمل کی ذمہ داری آیت اللہ خامنہ ای پر حملہ کرنے والوں پر عائد ہوگی۔

دوسری جانب ایرانی صدر نے بھی اس معاملے پر سخت موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای پر کوئی بھی حملہ مکمل اور ہمہ گیر جنگ کا باعث بنے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے کسی بھی اقدام کے نتائج صرف خطے تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ عالمی عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں نئی ​​قیادت کی ضرورت پر بات کی تھی۔

صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے اور اس کا مقصد آیت اللہ خامنہ ای کو تبدیل کرنا تھا۔

اس سے قبل ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ایران میں بدامنی، ہلاکتوں اور مظاہروں کا براہ راست ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹھہرایا تھا۔

آیت اللہ خامنہ ای کے بیان کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے حکمران اقتدار برقرار رکھنے کے لیے بے مثال جبر اور تشدد پر انحصار کر رہے ہیں۔

امریکی صدر نے مظاہرین کو بھڑکاتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ ایرانی اداروں کا کنٹرول سنبھال لیں، آپ کی مدد جاری ہے۔
مزید پڑھیں‌:اساتذہ کی’ ای ٹرانسفر پالیسی‘ سےمتعلق اہم حکومتی فیصلہ

یہ بھی پڑھیں