کراچی (اوصاف نیوز) محکمہ توانائی سندھ میں سولر پینل کی فراہمی کے منصوبے میں 3 ارب روپے سے زائد کی مبینہ کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے نوٹس کے بعد سولر پینل کی فراہمی کے منصوبے کے ریکارڈ کی تفصیلات نیب کو فراہم کرنے کی منظوری دے دی۔
ذرائع کے مطابق نیب نے کم آمدنی والے افراد کو 2 لاکھ سولر پینل فراہم کرنے کے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، یہ منصوبہ ورلڈ بینک سے 100 ملین ڈالر کے قرض سے کیا جا رہا تھا۔
ٹھیکہ حاصل کرنے والی کمپنی نے مبینہ طور پر جعلی دستاویزات بنا کر 3.2 ارب روپے کی کرپشن کی۔
ذرائع کے مطابق ٹھیکیدار نے پراجیکٹ کے عملے کی ملی بھگت سے سولر یونٹس کی مطلوبہ تعداد فراہم نہیں کی تاہم دستاویزات میں اسے مکمل دکھایا گیا۔
مزید پڑھیں:مفت لیپ ٹاپ حاصل کرنے کے خواہشمند طلبا کے لئے بڑی خوشخبری
