اسلام آباد (اوصاف نیوز) سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ پہلی ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی (ڈی پی سی) کے دن سے مستند سرکاری افسر ترقی کا حقدار ہو گا، ملازم کو انتظامی غفلت یا تاخیر کا خمیازہ بھگتنا نہیں پڑے گا۔
سپریم کورٹ نے پنجاب سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سرکاری ملازم فخر مجید کی ترقی 21 جنوری 2012 سے نافذ العمل قرار دے دی۔
کرایہ داری کا اصول قائم ہو گیا، سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کا بے دخلی کا فیصلہ درست قرار دے دیا۔
پنجاب سروس ٹربیونل نے فخر مجید کی پروموشن سے متعلق اپیل مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ جس دن سے عہدہ خالی ہو جائے گا اس دن سے ملازم کو پروموشن کا حق نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے مطابق مستند سرکاری ملازم کو بروقت پروموشن کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی میں شامل کرنا بنیادی حق ہے جب کہ ملازم کو انتظامی نااہلی، غفلت یا تاخیر پر سزا نہیں دی جا سکتی۔
سات صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس عائشہ ملک نے تحریر کیا جب کہ کیس کی سماعت جسٹس عائشہ ملک، جسٹس محمد ہاشم کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کی۔
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ سرکاری ملازمین کی پروموشن بنیادی حق ہے اور پروموشن میں تاخیر یا انتظامی غفلت سے ملازمین کا حق متاثر نہیں ہوگا۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگر کوئی ملازم اہلیت کے تمام تقاضے پورے کرتا ہے تو اسے پہلی محکمانہ پروموشن کمیٹی کی تاریخ سے ترقی دی جائے۔
سپریم کورٹ نے سرکاری اداروں کو ہدایت کی کہ ملازمین کی بروقت ترقیاں یقینی بنائیں اور اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ انتظامی ناکامی یا سستی کا نقصان ملازمین پر نہ پڑے۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا کہ ملازمین کو انتظامی غفلت کی سزا نہیں دی جا سکتی اور یہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے نظام کو موثر اور بروقت بنائیں۔
مزید پڑھیں:سولر پینل سےمتعلق اہم حکومتی فیصلہ
