Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

خوشخبری ،اسپین کا غیر دستاویزی تارکین وطن کے بارے میں اہم فیصلہ

میڈرڈ (انٹرنیشنل ڈیسک) سپین نے پانچ لاکھ غیر دستاویزی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ہسپانوی وزیر برائے مائیگریشن الماسیز نے کہا کہ حکومت ایک حکم نامے کی منظوری دینے جا رہی ہے جس کے تحت تقریباً پانچ لاکھ غیر دستاویزی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ قانونی حیثیت حاصل کرنے والے تارکین وطن کی تعداد کم یا زیادہ ہو سکتی ہے اور اس فیصلے سے فائدہ اٹھانے والے ملک کے کسی بھی حصے اور کسی بھی شعبے میں کام کر سکیں گے۔

الماسز نے کہا کہ حکومت ایک ایسا امیگریشن سسٹم بنانے جا رہی ہے جو انسانی حقوق، سماجی شمولیت، باہمی ہم آہنگی، اقتصادی ترقی اور سماجی ہم آہنگی کے مطابق ہو۔

یہ اقدام یورپ کے دیگر حصوں میں سخت پالیسیوں کے برعکس سپین کا تازہ ترین فیصلہ ہے۔

اس فیصلے سے ان لوگوں کو فائدہ پہنچے گا جو کم از کم پانچ ماہ سے اسپین میں رہ رہے ہیں۔ درخواست دہندگان کا مجرمانہ ریکارڈ صاف ہونا ضروری ہے، اور اس فیصلے کا اطلاق ان کے بچوں پر بھی ہو گا جو پہلے سے سپین میں رہ رہے ہیں۔

درخواستیں جمع کرانے کا عمل اپریل میں شروع ہونے کی امید ہے اور جون کے آخر تک جاری رہے گی۔

خبر رساں ادارے کے مطابق اس منصوبے پر حکومتی حکم نامے کے ذریعے عمل درآمد کیا جائے گا، جس کے لیے پارلیمانی منظوری کی ضرورت نہیں ہوگی، کیونکہ وہاں سوشلسٹ قیادت والی مخلوط حکومت کے پاس اکثریت نہیں ہے۔

قدامت پسند اور دائیں بازو کی اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے غیر قانونی امیگریشن میں اضافہ ہوگا۔

ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کا کہنا ہے کہ اسپین کو مزدوروں کی کمی کو پورا کرنے اور عمر رسیدہ آبادی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے امیگریشن کی ضرورت ہے۔

تھنک ٹینک فنکاس کے مطابق جنوری 2025 کے آغاز میں اسپین میں تقریباً 840,000 غیر قانونی تارکین وطن مقیم تھے، جن میں سے زیادہ تر لاطینی امریکی تھے۔

ہسپانوی قومی ادارہ شماریات کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اسپین کی کل 49.4 ملین آبادی میں سے 7 ملین سے زیادہ غیر ملکی تارکین وطن ہیں۔
مزید پڑھیں‌:انڈر 19 ورلڈ کپ سپرسکس، پاکستان نے نیوزی لینڈ کو شکست دیدی

یہ بھی پڑھیں