Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

سندھ طاس معاہدہ: بھارت کا غیر قانونی اقدام بے نقاب

اسلام آباد (اوصاف نیوز)سندھ طاس معاہدے پر بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات پر بحث کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی میزبانی میں ایک اہم اَریا فارمولہ اجلاس منعقد ہوا۔ یہ اجلاس 30 جنوری کو “معاہدات کی حرمت کے تحفظ” کے موضوع کے تحت منعقد کیا گیا، جس میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کے فیصلے پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس میں دنیا کے مختلف خطوں سے 40 رکن ممالک نے شرکت کی، تاہم بھارت نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ واضح رہے کہ اَریا فارمولہ اجلاس سلامتی کونسل کا ایک غیر رسمی اور خفیہ فورم ہوتا ہے جسے سلامتی کونسل کا کوئی بھی رکن ملک طلب کر سکتا ہے۔ اس فورم کے ذریعے بین الاقوامی تنظیموں، غیر ریاستی اداروں اور سلامتی کونسل سے باہر کے ممالک کے اعلیٰ حکام کے ساتھ براہِ راست تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔

اجلاس میں اقوامِ متحدہ کے آفس آف لیگل افیئرز کے نمائندے ڈیوڈ نینوپولوس، ریسرچ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لا کے صدر احمر بلال صوفی، انٹرنیشنل پیس انسٹیٹیوٹ کے صدر پرنس زید رعد الحسین اور بوسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر عادل نجم نے بریفنگ دی۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی معاہدے قانونی طور پر پابند ہوتے ہیں اور عالمی تعلقات میں استحکام کا بنیادی ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بین الاقوامی قانون کو کمزور کرنا اجتماعی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

اجلاس میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کے اقدام کو بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ بھارت کے اس اقدام کے علاقائی اور عالمی سطح پر دور رس منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

پاکستانی موقف پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر مؤثر اور نافذ العمل ہے اور اس کے تحت تنازعات کے حل کے لیے موجودہ میکنزم پر عملدرآمد دونوں ممالک پر لازم ہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ معاہدوں کی پاسداری ہی خطے میں امن، استحکام اور تنازعات کی روک تھام کی ضمانت ہے۔

اجلاس میں شریک رکن ممالک نے بھی اس امر پر اتفاق کیا کہ سندھ طاس معاہدے جیسے بین الاقوامی معاہدات خطے میں استحکام، تعاون اور تنازعات کی روک تھام کے لیے ناگزیر ہیں اور انہیں یکطرفہ اقدامات کے ذریعے کمزور نہیں کیا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں:انڈر 19 ورلڈ کپ:بھارت کی پاکستان کیخلاف بیٹنگ جاری

یہ بھی پڑھیں