اسلام آباد (اوصاف نیوز)اے این پی کے مرکزی صدرایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ملک کے مسائل کا حل جمہوری طریقے سے اور سب سیاسی قوتوں کے درمیان بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ” مسائل کا حل ہمیں کراس دا ٹیبل بیٹھ کر ہی نکالنا ہوگا، لیکن وہ مسائل جو اس سے حل نہیں ہو رہے، ان کے لیے آگے کچھ نہ کچھ تو ہونا ہی ہے۔“
اے این پی کی جانب سے بھی کہا گیا کہ ملک میں سب کے لیے بات چیت ہونی چاہیے اور نظام کو ایک نیا “عمرانی معاہدہ” کرنے کی ضرورت ہے، جس میں عوام کی بہتری کے لیے جمہوریت، ریاست، سیاست اور اداروں کو آزاد کیا جائے۔ ایمل ولی نے اس موقع پر واضح کیا کہ یہ عمل کسی مخصوص گروپ، سیاسی جماعت یا کسی فرد کو وزیراعظم بنانے کے لیے نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ذاتی مفادات کو چھوڑ کر سب کو عوام کے لیے مل بیٹھنا ہوگا۔
ایمل ولی خان نے پی ٹی آئی کے 8 فروری کے احتجاج کے حوالے سے ردعمل میں کہا کہ ”انقلاب اگر رضائی سے آتا تو مبارک ہو، کے پی کے بند تھا لیکن خیبر پختونخوا کھلا تھا۔“
https://www.facebook.com/reel/3900781043549108
مزید پڑھیں:نادرا نے ویری فکیشن کا نیا نظام متعارف کرادیا


