ڈی آئی خان( اوصاف نیوز) ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے وانڈہ بڈھ میں سرچ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایس ایچ او فہیم ممتاز مروت سمیت چار پولیس اہلکار شہید جبکہ ڈی ایس پی پہاڑپور سرکل محمد عدنان اور دیگر اہلکار زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق واقعہ شام تقریباً 4 بج کر 50 منٹ پر تھانہ شہید نواب خان کی حدود میں پیش آیا، جہاں سی ٹی ڈی اور مقامی پولیس مشترکہ سرچ آپریشن میں مصروف تھی۔ اسی دوران کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹیپو گل مروت گروپ سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے گھات لگا کر فائرنگ کر دی۔ پولیس کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کی گئی اور مقابلہ جاری رہا۔
شہداء میں ایس ایچ او فہیم ممتاز خان، کانسٹیبل عرفان خان، کانسٹیبل غلام سبحانی اور کانسٹیبل توقیر شامل ہیں۔ زخمیوں میں ڈی ایس پی محمد عدنان، ڈرائیور طارق خان اور ڈی ایس پی کے دو گن مین شامل ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ڈی ایس پی عدنان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور انہیں معمولی زخم آئے ہیں۔
واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جوابی فائرنگ میں دہشت گردوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تاہم سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔
سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیرہ پولیس کے بہادر جوانوں نے وطن اور عوام کے تحفظ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی اور زخمی اہلکاروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے بھی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور پولیس کے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔
علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے جبکہ سرچ آپریشن جاری ہے۔
مزید پڑھیں:فیس بک کا نیا فیچر ، ایسا کچھ پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا


