Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

وزیراعظم کا اسلام آباد کے المناک سانحے پر متاثرین کے لیے امداد کا اعلان

اسلام آباد (اوصاف نیوز) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ترلائی دھماکے کے شہدا کے لواحقین کے لیے امداد اور شہدا کے بیٹوں اور بیٹیوں کو نوکریوں کا اعلان کیا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے ترلائی میں امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ کا دورہ کیا اور دھماکے میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ اور زخمیوں سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس سے بدترین بربریت کی کوئی مثال نہیں ہو سکتی، ہم سب کے دل دکھی ہیں، ہم دہشت گردی کی جتنی بھی مذمت کریں کم ہے، دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور کوئی مذہب نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کرتی ہے، ہمارے بزرگ، بھائی، بیٹے اور بچے اس دہشت گردی کا نشانہ بنے، ہم سب اس کا سوگ منا رہے ہیں، پاک فوج ہر روز دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہی ہے، دہشت گردی کے واقعے سے دل بہت دکھی ہے، دہشت گردوں کی ناپاک سازش کو خاک میں ملا دیا گیا ہے۔

محمد شہباز شریف نے کہا کہ میں تمام مسالک کے علمائے کرام اور مسلمانوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو اتحاد، یکجہتی اور ہم آہنگی کو برقرار رکھتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملا رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے ایک ارب روپے کی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کیا۔ شہید عون عباس کی بے مثال بہادری کے اعتراف میں ان کے اہل خانہ کے لیے ایک کروڑ روپے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ خودکش حملہ آور کو روکنے کی کوشش میں شہید ہونے والے نوجوان عون عباس کی بہادری اور قربانی کی عظیم مثال کو سلام پیش کرتا ہوں۔ عون عباس کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔

اس کے علاوہ وزیر اعظم نے ایک کروڑ روپے کی امداد کا بھی اعلان کیا۔ شہدا کے لواحقین کے لیے فی کس 50 لاکھ روپے۔ خودکش حملے میں زخمی ہونے والوں کے لیے 30 لاکھ روپے اور شہدا کے بیٹوں اور بیٹیوں کو سرکاری نوکریاں دی جائیں گی۔
مزید پڑھیں‌:ایران کے اسلامی انقلاب کی 47ویں سالگرہ ، پاک ایران تعلقات میں نیا موڑ

یہ بھی پڑھیں