واشنگٹن (نیوز ڈیسک) ڈونلڈ ٹرمپ نے باراک اوباما کے دور میں کیے گئے ایک اہم ماحولیاتی فیصلے کو منسوخ کر دیا ہے، جس کے ممکنہ عالمی اثرات کے حوالے سے ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 2009ء میں اوباما انتظامیہ نے قرار دیا تھا کہ گرین ہاؤس گیسیں انسانی صحت کے لیے خطرہ ہیں۔ یہی فیصلہ امریکا میں کاربن اخراج کم کرنے کے وفاقی قوانین، خصوصاً گاڑیوں سے متعلق ماحولیاتی ضوابط کی قانونی بنیاد بنا تھا۔
وائٹ ہائوس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ اقدام امریکی تاریخ کی سب سے بڑی “ڈی ریگولیشن” ثابت ہوگا۔ انتظامیہ کے مطابق اس فیصلے سے گاڑیوں کی تیاری پر لاگت میں کمی آئے گی اور آٹو صنعت کو فی گاڑی تقریباً 2400 ڈالر تک ریلیف مل سکتا ہے، جس کے نتیجے میں گاڑیاں سستی ہونے کا امکان ہے۔
دوسری جانب ماحولیاتی تنظیموں نے اس اقدام کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی کوششوں پر بڑا دھچکا قرار دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے اقدامات کمزور پڑتے ہیں تو اس کے منفی اثرات پاکستان سمیت اُن ممالک پر زیادہ ہوں گے جو پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت، شدید سیلاب، طویل خشک سالی اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے جیسے عوامل پاکستان کی معیشت اور خوراک کے نظام پر مزید دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف امریکا کی ماحولیاتی پالیسی میں بڑی تبدیلی ہے بلکہ اس کے عالمی موسمیاتی اہداف پر بھی دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں:کوہاٹ میں بڑا سانحہ ٹل گیا، شہر بڑی تباہی سے بال بال بچ گیا


