Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

پاکستانی افواج فوری اور موثر جوابی کارروائی کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی ( اوصاف نیوز )آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے پاکستان اور افغانستان کی موجودہ صورتحال پر اہم پریس کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ 21 اور 22 فروری کی شب پاک افغان سرحد پر فتنہ الخارج اور خوارج کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی ٹھوس انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی۔ پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ وزیراعظم کوکچھ دیرقبل آپریشن غضب للحق پربریفنگ دی۔ بریفنگ کا مقصد آپریشن غضب للحق کی تفصیل سے آگاہی ہے۔

افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کی پشت پناہی کررہی ہے۔ 21اور 22فروری کی شب پاک افغان بارڈر پر فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ حملوں نےثابت کردیا اس کےپیچھےکس کاہاتھ ہے.پاکستان کی مسلح افواج نےبھرپورجوابی کارروائی کی۔طالبان رجیم دہشتگردوں کی ماسٹر پراکسی ہے۔ ماسٹر پراکسی رات کو آئی،15سیکٹرز میں 53مقامات پر فائرنگ کی گئی۔ آپریشن غضب للحق میں اب تک274دہشتگردہلاک ہوچکے۔
پاکستانی افواج فوری اور موثر جوابی کارروائی کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ افغانستان میں دہشتگردوں کے22مقامات کوٹارگٹ کیاگیا۔ افغان طالبان اپنےساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کرفرارہوگئے۔

دہشتگرد اپنے ساتھیوں کی لاشیں بھی چھوڑ کر فرار ہوئے۔ آپریشن میں 274خوارج ہلاک،400سے زائد زخمی ہیں۔ 73پوسٹیں مکمل تباہ،18پوسٹوں کو قبضہ میں لیا ہے۔ 115ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں بھی تباہ کی گئیں۔ دہشتگردوں کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا۔ پاک فوج کے 12جوانوں نے شہادت حاصل کی۔ پاک فوج کے 27جوان زخمی اور ایک لاپتہ ہے۔طالبان رجیم کی 18چوکیاں پاکستان کے قبضے میں ہیں۔

حالیہ حملوں نے واضح کر دیا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے پیچھے کون سی قوتیں کارفرما ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ناقابل تردید شواہد کے ذریعے ثابت کر دیا ہے کہ یہ کارروائیاں محض چند شرپسندوں کا کام نہیں بلکہ منظم پشت پناہی کے تحت ہو رہی ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم کو کچھ دیر قبل آپریشن غضب للحق پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے۔ بریفنگ کا مقصد آپریشن کی حکمت عملی، اہداف اور حاصل ہونے والی کامیابیوں سے مکمل آگاہی فراہم کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی قیادت کو ہر مرحلے پر اعتماد میں لیا جا رہا ہے اور ریاستی ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران یہ بھی کہا گیا کہ افغان طالبان رجیم پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے میں ملوث عناصر کی سرپرستی کر رہی ہے۔ 21 اور 22 فروری کی شب باغ کے قریب سرحدی علاقوں میں فتنہ اور خوارج کے ٹھکانوں کو درست نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ڈی جی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ جو بھی عناصر ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کریں گے، انہیں بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسلح افواج ہر قیمت پر قومی سلامتی کا دفاع کریں گی۔

سوشل میڈیا پر بھی اس پریس کانفرنس کے بعد زبردست ردعمل دیکھنے میں آیا، شہریوں کی بڑی تعداد افواج پاکستان کے حق میں پیغامات شیئر کر رہی ہے اور وطن کے دفاع کے لیے یکجہتی کا اظہار کر رہی ہے۔ قوم ایک بار پھر اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آ رہی ہے۔
مزید پڑھیں‌:آسمان گرا نہ زمین پھٹی،درندہ صفت باپ نے اپنی ہی 13سالہ بیٹی کی عزت تا ر تار کر دی

یہ بھی پڑھیں