Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

ایران کا 6 امریکی فوجی اڈوں، مختلف اسرائیلی شہروں پر میزائلوں سے حملہ

تل ابیب (اوصاف نیوز) ایران نے رات گئے مشرق وسطیٰ میں امریکا کے 6 فوجی اڈوں سمیت اسرائیل کے مختلف شہروں پر میزائلوں سے حملہ کر دیا۔خبر ایجنسی کے مطابق ایران نے بحرین، عراق، امارات اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، امریکی فوجی اڈوں کے علاوہ ایران نے اسرائیل کے مختلف شہروں پر بھی میزائلوں سے حملہ کیا۔

ایران نے اسرائیلی وزیراعظم کے دفتراور اسرائیلی فضائیہ کے ہیڈ کوارٹر پر بھی حملہ کیا، ایرانی میڈیا کے مطابق دونوں حملوں میں خیبر میزائل استعمال کیے گئے، تل ابیب، حیفا اور مشرقی بیت المقدس پر بھی حملے کیے گئے۔
خطے میں کشیدہ صورت حال کے پیش نظر اردن میں امریکی سفارتخانہ خالی کروا لیا گیا، امریکی ایمبیسی کے لاؤڈ سپیکر سے اعلان کیا گیا کہ عملہ محفوظ مقام کی جانب رخ کرے۔

عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایران کے دارالحکومت تہران میں نشریاتی ادارے کی عمارت سمیت مختلف مقامات کو نشانہ بنایا، اسرائیلی حملوں کے بعد تہران میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس کی تصدیق ایرانی میڈیا نے بھی کی۔

روسی میڈیا کے مطابق اردن کے فضائی دفاعی نظام کی جانب سے ایرانی میزائل روکنے کی کوشش ناکام ہوگئی، جس کے بعد اردن کا میزائل اپنے ہی فوجی اڈے سے جا ٹکرایا اور علاقہ اندھیرے میں ڈوب گیا۔

قطری وزارت دفاع نے کہا ہے کہ قطر کی حدود میں اب تک ایران کے 101 بیلسٹک، 3 کروز میزائل، 39 ڈرون طیارے داخل ہوئے، قطری دفاعی نظام نے 3 کروز، 98 بیلسٹک میزائل اور 24 ڈرون فضا میں تباہ کردیے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کیپٹل ہل پر 8 ارکان کانگریس کو بریفنگ میں کہا کہ ایران پر اسرائیل حملہ کرنے والا تھا، جواب میں امریکا کے نشانہ بننے کا خدشہ تھا، اگر دفاعی رویہ اپنایا جاتا تو امریکا کو زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑتا۔

رکن کانگریس جواکھم کاسترو نے کہا کہ ایران پر حملے کیلئے اکسا کر اسرائیل نے امریکا کو خطرے میں ڈالا، اسرائیل کو روکنے کے بجائے ٹرمپ انتظامیہ جنگ میں شریک ہوگئی۔

بلومبرگ کے مطابق متحدہ عرب امارات اور قطر نے اتحادیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرمپ ایران کے معاملے پر کشیدگی کم کرنے میں مدد کریں، امارات اور قطر ایک وسیع اتحاد بنانا چاہتے ہیں، تاکہ تنازع کا فوری سفارتی حل نکالا جا سکے۔
مزید پڑھیں:پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافے کے بعد نئی قیمت آسمان تک پہنچ گئی

یہ بھی پڑھیں