تل ابیب (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں آرمی ہیڈ کوارٹر کے باہر براہ راست نشریات کے دوران دو ترک صحافیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سی این این کے دونوں صحافی ایران کی جانب سے تل ابیب اور اسرائیل کے دیگر علاقوں پر میزائل حملوں کے بعد کی صورتحال کو کور کررہے تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق دونوں صحافی تل ابیب میں اسرائیلی فوج کے مرکزی ہیڈ کوارٹر کے “کریا ملٹری کمپلیکس” کے باہر کیمروں کے ساتھ بہت قریب تھے۔
یہ صحافی امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے ترک زبان کے چینل سے وابستہ تھے جن میں ایک رپورٹر اور ایک کیمرہ مین بھی شامل تھا۔
עיתונאים של CNN טורקיה נעצרו לאחר שצילמו את בסיס הקרייה@NoamIhmels pic.twitter.com/t8a5P9yXfw
— גלצ (@GLZRadio) March 3, 2026
ادھر ایران کے میزائل حملوں کے بعد علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی اور دونوں صحافیوں کو کرفیو کی خلاف ورزی پر حراست میں لے لیا گیا۔
براہ راست نشریات کے دوران دو فوجی افسران وہاں پہنچے اور رپورٹر کا موبائل فون چھین لیا۔ بعد ازاں پولیس نے دونوں کو حراست میں لے لیا۔
پولیس حکام کا کہنا تھا کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ دونوں مشتبہ افراد ایک غیر ملکی میڈیا چینل کے لیے کیمرے سے حقیقی وقت میں ریکارڈنگ کر رہے تھے۔
جب افسران نے ان سے شناخت کے لیے پوچھا تو انھوں نے پریس کارڈز پیش کیے جو مبینہ طور پر ان کی میعاد ختم ہونے کی وجہ سے قابل قبول نہیں تھے، جس کے بعد انھیں پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔
ترکی کے صدارتی مواصلات کے سربراہ نے اس گرفتاری کو آزادی صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں صحافیوں کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
مزید پڑھیں:سعودیہ میں پھنسے اسٹار فٹبالر رونالڈو کے بارے میں بڑی خبر سامنے آ گئی


