Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

مشرق وسطیٰ جنگ کا نیا وار، اسرائیل کی معیشت کو بڑا جھٹکا

(انٹرنیشنل ڈیسک) ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے اثرات اب اسرائیل کی معیشت پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں چھوٹے کاروبار شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ سکیورٹی خدشات کے باعث اجتماعات پر پابندی اور دفاتر میں غیر ضروری کام معطل کیے جانے سے مختلف صنعتوں کی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں، جبکہ کئی ایئر لائنز نے خطے کے لیے اپنی پروازیں محدود یا معطل کر دی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور قیمت تقریباً 86 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جلد 100 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث کئی ممالک ایندھن کے استعمال میں کمی لانے کے اقدامات پر غور کر رہے ہیں، جبکہ پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی میں کمی کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب حکومتیں ایندھن کی کھپت کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہیں۔ بعض جگہوں پر آن لائن تعلیم اور ورک فرام ہوم جیسی پالیسیوں کو دوبارہ متعارف کرانے پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ ایندھن کی قیمتوں کے تعین کا دورانیہ بھی کم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

ادھر سفارتی سطح پر بھی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو اور ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، جس میں خطے کی صورتحال اور ایران سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں مسلم ممالک کو سفارتی سطح پر کردار ادا کرتے ہوئے امریکا کو یہ باور کرانا ہوگا کہ ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ مل کر کارروائی خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کو صرف فرقہ وارانہ تناظر میں دیکھنا درست نہیں کیونکہ اس معاملے پر مسلم دنیا میں وسیع تشویش پائی جاتی ہے۔
مزید پڑھیں‌:امریکا کا ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ، جنگ دوسرے ہفتے میں داخل

یہ بھی پڑھیں