Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

پاک افغان کشیدگی، چین متحرک، نمائندہ کابل بھیج دیا

اسلام آباد(اوصاف نیوز)چین نے پاکستان اور افغانستان کے مابین گزشتہ 10 دنوں سے جاری کشیدگی ختم کرانے کیلیے کوششیں شروع کردی ہیں۔

اس کیلئے چین کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان یو شیاؤ یونگ کو کابل بھیج دیا ہے جہاں انھوں نے اتوارکو افغانستان کے وزیرخارجہ امیرخان متقی سے ملاقات کی ہے۔

اس ضمن میں افغان وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ملاقات میں ملا امیرخان متقی اور یو شیاؤ یونگ کے درمیان دوطرفہ تعاون اور خطے کی خراب ہوتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

چینی مندوب نے افغان حکومت پر زوردیا کہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی کو سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعے ختم کیا جائے،دونوں ملکوں میں کشیدگی کا خاتمہ خطے کے استحکام اور سلامتی کیلیے ضروری ہے۔

یو شیاؤ یونگ کا کہنا تھا کہ ان کا ملک حالات کو بہتر بنانے کیلیے دونوں ملکوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔

چین کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان کے یہ دورہ ایسے موقع پر ہورہا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی جھڑپیں جاری ہیں،پاکستان افغانستان کے اندرزمینی و فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

اسلام آباد میں پاکستانی حکام کاکہنا ہے کہ افغان حکومت سرحد پار سے دہشتگرد گروپوں کو لگام ڈالنے میں ناکام رہی ہے لہٰذا فوجی کارروائی کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہیں۔

افغانستان کے اندرٹی ٹی پی کی پناہ گاہیں ہیں جہاں سے وہ پاکستان کے اندر آکر کارروائیاں کرتی ہے۔پاکستان بارہا افغان حکومت کو باور کرا چکا ہے کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کرے لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

دوسری طرف افغانستان میں طالبان کی حکومت ہمیشہ سے اس کی تردید کرتی آئی ہے بلکہ اس کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان کے اندر حملے کرکے اس کی خود مختاری کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

یو شیاؤ یونگ سے گفتگوکرتے ہوئے امیرخان متقی نے افغانستان کے اندر پاکستان کی کارروائیوں کو ’’جارحیت ‘‘ سے تعبیرکیا اورکہا کہ ان کا ملک تمام مسائل پرامن طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے۔

تاہم اپنے ملک اور عوام کا تحفظ افغان حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔چین جس کے پاکستان اور افغانستان دونوں سے اچھے تعلقات ہیں دونوں ملکوں کو مذاکرات کی میزپرلانے کیلئے مسلسل کوششیں کررہا ہے۔

چین کے اسٹریٹجک مفادات اس خطے کے استحکام سے جڑے ہیں۔وہ اس خطے کو باہم ملانے کیلئے بیلٹ اینڈ روڈ اینیشیوٹومنصوبے پر سرمایہ کاری کررہا ہے،اسے اپنی مغربی سرحدوں پرسکیورٹی کی خراب صورتحال پر تشویش ہے۔
مزید پڑھیں: طالبان رجیم کا خواتین دشمن چہرہ ایک بار پھر بے نقاب

یہ بھی پڑھیں