لاہور: زیرو فیس اسکول منصوبے کے تحت پنجاب حکومت نے غریب اور متوسط طبقے کے لیے بڑا ریلیف دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 2 لاکھ روپے ماہانہ تک آمدن رکھنے والے والدین کے بچوں سے کوئی تعلیمی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں صوبے کے تعلیمی نظام کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے “نواز شریف سینٹر آف ایمیننس” منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ان تعلیمی اداروں میں مستحق طلبہ کے لیے زیرو فیس پالیسی نافذ کی جائے گی۔
بریفنگ کے مطابق ہر کلاس میں زیادہ سے زیادہ 30 طلبہ ہوں گے، بہترین اساتذہ تعینات کیے جائیں گے اور جدید تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیم میسر آ سکے۔
حکام نے بتایا کہ جن خاندانوں کی ماہانہ آمدن 2 لاکھ روپے یا اس سے کم ہوگی، ان کے بچوں سے کوئی فیس نہیں لی جائے گی۔ تاہم ایسے والدین جو مکمل فیس ادا کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں، ان کے بچوں کے لیے بھی 10 فیصد کوٹہ مختص کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے اس منصوبے کو پنجاب میں تعلیمی شعبے کی بہتری کی جانب اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری تعلیمی اداروں پر عوام کا اعتماد بحال ہو رہا ہے، جس کا ثبوت داخلہ ٹیسٹ میں طلبہ کی بڑی تعداد ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ نواز شریف سینٹر آف ایمیننس صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہیں بلکہ پنجاب کے تمام ڈویژنز، اضلاع اور تحصیلوں تک ان کا دائرہ کار وسیع کیا جائے تاکہ دور دراز علاقوں کے بچوں کو بھی یکساں معیاری تعلیم کے مواقع حاصل ہوں۔
