Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی متحرک سفارت کاری، عالمی قیادت سے مسلسل رابطے جاری

اسلام آباد(رضوان عباسی )ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور خطے میں امن کے قیام کیلئے فعال سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس سلسلے میں علاقائی و عالمی قیادت سے مسلسل رابطے برقرار ہیں۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار خطے کی صورتحال کے حوالے سے مختلف ممالک کے رہنماؤں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں سعودی عرب پر حملوں کی مذمت کی گئی اور سعودی قیادت کے صبر و تحمل کو سراہا گیا۔

ترجمان کے مطابق وزیراعظم نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے بھی رابطہ کیا جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے ناروے، سعودی عرب، آذربائیجان، ترکیہ، مصر، عراق، متحدہ عرب امارات، ملائیشیا اور ایران کے وزرائے خارجہ سے بھی خطے کی صورتحال پر اہم سفارتی رابطے کیے۔ انہوں نے بتایا کہ محمد اسحاق ڈار نے 18 مارچ کو سعودی عرب کا اہم دورہ بھی کیا جہاں علاقائی صورتحال پر مشاورت کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر اسلاموفوبیا کے خلاف بھی بھرپور آواز اٹھائی ہے اور پاکستان کی کوششوں سے اقوام متحدہ نے 15 مارچ کو عالمی یومِ انسداد اسلاموفوبیا قرار دیا۔ ترجمان نے بھارت کی جانب سے سری نگر کی مرکزی جامع مسجد کی بندش کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت گزشتہ سات برس سے اس تاریخی مسجد کو بند کیے ہوئے ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی عدالت کی جانب سے کشمیری حریت رہنما آسیہ اندرابی کو عمر قید اور ان کی ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو 30،30 سال قید کی سزا سنانے کے فیصلے کو انصاف کا قتل قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ بھارت کے متنازع قانون UAPA کے غلط استعمال کی عکاسی کرتا ہے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں اختلافی آوازوں کو دبانے کی کوشش ہے۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں اور بھارت کو جوابدہ ٹھہرائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ شدید کشیدگی کے حالات میں سفارت کاری تحمل، خاموشی اور رازداری کی متقاضی ہوتی ہے اور موجودہ بحران کا واحد حل مذاکرات اور سفارت کاری کی جانب واپسی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان امن کے قیام کیلئے سہولت کاری اور مثبت کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے اور اصل منزل خطے میں پائیدار امن کا قیام ہے۔

افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں پاکستان انتہائی احتیاط برت رہا ہے تاکہ عام شہری محفوظ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے عناصر کے افغان طالبان سے روابط کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان مکمل طور پر محفوظ ملک ہے اور دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بدستور کھلے ہیں۔

پانی کے معاملے پر بھارت کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت بالادست دریا کے ملک ہونے کی حیثیت کا غلط استعمال کر رہا ہے اور پاکستان اسے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
مزید پڑھیں‌:بھارتی عدالت کا متنازع فیصلہ:حریت رہنما آسیہ اندرابی کو عمر قید، پاکستان اور حریت قیادت کا شدید ردعمل

یہ بھی پڑھیں